نوحۂ غزہ
پہلے ہمیں بھوک کی صلیب پر لٹکایا گیا
پانی کے ایک ای...
Ummah Post
25 July, 2025

نوحۂ غزہ

پہلے ہمیں بھوک کی صلیب پر لٹکایا گیا

پانی کے ایک ایک قطرے کو ترسایا گیا

اور پھر، جب ہڈیوں میں ہوا نے بھی پناہ لینا چھوڑ دی

ہمیں راشن کی قطاروں میں لگایا گیا

نہ شہری کہا گیا، نہ انسان

بلکہ ہدف، جسے دھکیل کر ذلت کی مٹی میں دفن کرنا تھا۔

جب ایک تھیلا آٹے کا قسمت سے ہاتھ آیا

تو سینے کو چِیرتی ایک گولی نے کہا:

"یہ تمہارے نصیب کا نہیں، میری بندوق کی مشق کا حصہ تھا۔"

اسرائیل نے اپنے کم سن فوجیوں کو

غزہ کی گلیوں میں تعینات کیا

نہ کسی دشمن فوج سے مقابلہ تھا

نہ کوئی عسکری مورچہ

بس ایک معصوم بچہ تھا

جسے روٹی کی تلاش میں مارا گیا

اور پھر خوشی سے کندھے پر تھپکی دی گئی

"نشانہ بالکل درست لگا!"

یہ وہ تربیت گاہ ہے جہاں انسانی جان

صرف نشانہ بازی کی ایک مشق ہے

جہاں بھوک، پیاس اور قطار میں کھڑا ہونا

فلسطینی کا جرم اور سزا دونوں بن گیا ہے

اے آسمانِ صبر!

اب کب برسیں گے وہ آنسو

جو زمین پر بارود بن کر ٹوٹیں؟

اے ملتِ خاموش!

کیا تمہاری نیند

ایک روٹی کے تھیلے سے سستی ہے؟

کیا تمہارے ضمیر کی قفل شدہ آنکھ

غزہ کی ان بے کفن لاشوں سے بھی نہیں کھلتی؟

ہم مر رہے ہیں

لیکن صرف جسم نہیں

لفظ، آہ، چیخ!

اور نوحے بھی شہید ہو رہے ہیں

رہ گئی ہے تو صرف بندوق

اور اس کا سیدھا ہوتا نشانہ…

فلسطینی بچوں کے سینوں پر

Share this article
بچوں کو گالم گلوچ نہ دیں
مضامین

بچوں کو گالم گلوچ نہ دیں

بچہ یہ گالیاں کہاں سے سیکھتا ہے؟ سب سے . پہلے گھر سے سیکھتا ہے، جو باپ بات بات پر اپنی بیوی کو گالی دے رہا ہو، اپنے بچوں کو گالیاں دے رہا ہے، دوستوں کے ساتھ نجی مجلس اور موبائل پر ایسی زبان استعمال کر رہا ہو تو پھر یہ بچہ والد سے سیکھ رہے ہوتا ہے، یہ سمجھتا ہے گالی کوئی بری بات نہیں جو باپ بات بات م...