یہ بے بسی کے عالَم میں اپنی ادنی سی کوشش کا اظہار ہے! یہ غزہ کے ایشو کو *ہائی لائٹ اور زندہ* رکھنے کے لیے اقدام ہے! یہ غزہ کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ہے! یہ عالمی دنیا کو غزہ پر ہونے والے سنگین ظلم کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش ہے! یہ حسبِ استطاعت کچھ کر گزرنے کی ایک جھلک ہے! یہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے والوں کے دلوں پر ایک دستک ہے! یہ سنگین اسرائیلی مظالم کے خلاف ریکارڈ کیا جانے والا احتجاج ہے! یہ مسلم دنیا کو جھنجھوڑنے کی ادنی سی کاوش ہے! یہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی اک سعی ہے! یہ شعور کو بیدار کرنے اور بیدار رکھنے کی اک مہم ہے! یہ تاریخ میں اسرائیلی مظالم کو درج کرنے والا اک سیاہ باب ہے! سو آپ کیوں خاموش ہیں؟ آپ کیوں غافل ہیں؟ دعا کیوں نہیں کرتے؟ تعاون کیوں نہیں کرتے؟ آواز کیوں بلند نہیں کرتے؟ بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے؟ جو کچھ بس میں ہے وہ کرتے رہیے اور غزہ کے ایشو کو مسلسل *ہائی لائٹ اور زندہ* رکھیے، یہ وقت ایک اہم تقاضا ہے! ✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھا۔ جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا‘ تمہیں پتہ ہےکہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے‘ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے- غلام نے جواب دیا‘ بادشاہ سلامت ! "اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ وہ خود کو کہیں خدا نہ سمجھ بیٹھیں کیوں کہ وہ خود سے ایک مکھی کو قابو نہیں کر سکتے.۔۔!! بادشاہ کو اس غلام کی بات اتنی پسند آئی کہ اس نے اسے آزاد کر کے اپنا مشیر مقرر کر دیا۔