​​فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر - اقبال عظیم

فاصلوں کو تکلف ہ...
Ummah Post
3 October, 2024

​​فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر - اقبال عظیم

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ، ہم بھی بے بس نہیں ، بے سہارا نہیں

خود اُنھی کو پُکاریں گے ہم دُور سے ، راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے

ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصدا بھٹک جائیں گے

ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ، ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے

جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا ، بندگی کا قرینہ بدل جائے گا

سر جُھکانے کی فُرصت ملے گی کِسے ، خُود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے

نامِ آقا جہاں بھی لیا جائے گا ، ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا

نُور ہی نُور سینوں میں بھر جائے گا ، ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے

اے مدینے کے زائر خُدا کے لیے ، داستانِ سفر مُجھ کو یوں مت سُنا

بات بڑھ جائے گی ، دل تڑپ جائے گا ، میرے محتاط آنسُو چھلک جائیں گے

اُن کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر ، کس مُسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر

ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی ، ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے

Share this article
اپنی زندگی کا جائزہ
مضامین

اپنی زندگی کا جائزہ

دنیا میں جو بھی آیا، کوچ کرنے کو آیا۔ دفن خود صدہا کئے زیر زمین۔ پھر بھی مرنے کا نہیں حق الیقین۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی غافل نہیں۔ کچھ تو عبرت چاہئے اے نفس لعین۔ ۸۔ جب تجھے وہ حادثہ موت کا پیش آئے گا جس کو کوئی نہیں ٹال سکتا، تو مال و دولت اور نوکرو خادم تیرے کچھ بھی کام نہ آئیں گے۔ ۹۔ اس و...