تم تو صبرکے قائل تھے ، 
رضائے رب پر مائل تھے، 
پھر یہ شکایتی...
Ummah Post
7 June, 2025

تم تو صبرکے قائل تھے ،

رضائے رب پر مائل تھے،

پھر یہ شکایتیں کیسی؟

کہو یہ رنجشیں کیسی؟

ہاں انسانی فطرت میں بھی سمجھتی ہوں،

کہ ایک گہرا دکھ تو ہوتا ہے،

کئی آنسو مچلتے ہیں

کئی شکوے پنپتے ہیں،

اضطراب مسلسل ہے۔۔۔

کئی جذبوں کی ہلچل ہے۔۔۔

مگر ہر حال میں شکر ﷲ کا حلف جو تم نے اٹھایا تھا،

کہو۔۔۔۔کیا اسکو نبھایا ہے؟

کیا رب سےبڑھ کر مخلص یہاں

تم نے کسی کو پایا ہے؟

Share this article
"انسان کی فطری کمزوریاں اور نماز کا اثر"
مضامین

"انسان کی فطری کمزوریاں اور نماز کا اثر"

آج فجر کہ بعد ‏میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک سا گیا بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان اصل پیدا کیسا ہوا ہے۔ آیت تھی: "اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ھلوعا" حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے ‏ میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگو...