استاد نے کلاس کے ہر بچے کو ایک لذیز ٹافی دی اور پھر عجیب ہدا...
Ummah Post
4 June, 2025

استاد نے کلاس کے ہر بچے کو ایک لذیز ٹافی دی اور پھر عجیب ہدایت دی:

’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘

یہ کہہ کر وہ کلاس روم سے باہر چلے گئے۔

کلاس میں خاموشی چھاگئی، ہر بچہ اپنی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور دس منٹ پورے ہوئے۔ استاد واپس آئے اور کلاس کا جائزہ لیا۔ سات بچے ایسے تھے جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جبکہ باقی سب بچے ٹافی کھا چکے تھے۔ استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کیا۔

اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا۔

کچھ سالوں بعد پروفیسر والٹر نے دوبارہ ان بچوں کے بارے میں تحقیق کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ سات بچے زندگی میں کامیابیاں حاصل کر چکے تھے، جبکہ باقی طلبہ عام زندگی گزار رہے تھے اور کچھ سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا کر رہے تھے۔

پروفیسر والٹر نے اس تحقیق کا نتیجہ ایک جملے میں نکالا:

’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کر سکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘

اس تحقیق کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیونکہ بچوں کو دی گئی ٹافی کا نام ’’مارش میلو‘‘ تھا۔

اس تھیوری کے مطابق، دنیا کے کامیاب ترین افراد میں ایک خوبی ’’صبر‘‘ بھی پائی جاتی ہے، جو انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے۔ اس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔

تاہم ذہن میں رہے کہ یہ مجبوری والا صبر نہیں، مرضی والا صبر ہے.

یہی قوتِ برداشت انہیں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔

Share this article
پرہیز گار استاد اور سمجھ دار شاگرد
مضامین

پرہیز گار استاد اور سمجھ دار شاگرد

حضرت حکیم الامت تھانوی اور حضرت شاہ وصی اللہ الہ آبادی نور اللہ مرقدهما دونوں نے یہ واقعہ نقل کیا کہ ایک پرہیز گار عالم بچوں کو پڑھاتے تھے ایک دن ان کے گھر میں فقر و فاقہ تھا بھوک کی شدت سے ان کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا جو طلبہ پڑھنے کو آتے اُن میں سے ایک طالب علم نے محسوس کر لیا کہ حضرت کے یہاں شاید ف...