https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/8596_2026-11-03_islamictube.jpg

سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کی آڑ میں شہید ہوگی صدیوں پرانی 'قدیمی مسجد'؟ مرکز کے فیصلے سے اقلیتی طبقے میں شدید غم و غصہ

نئی دہلی: لٹینز دہلی کے کرشی بھون احاطے میں واقع صدیوں پرانی تاریخی ’قدیمی مسجد‘ کے وجود پر اب براہِ راست خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کر کے صاف کر دیا ہے کہ ’سینٹرل وسٹا پروجیکٹ‘ کے تحت اس مسجد کو ہٹایا جائے گا۔ حکومت کے اس قدم نے ایک بار پھر ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں مذہبی مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔

حکومت کی دلیل: 'سیکولر ڈھانچے کے خلاف ہے مسجد'

وزارتِ ہاؤسنگ اور شہری امور کے تحت آنے والے لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (L&DO) کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں انتہائی سخت موقف اپنایا گیا ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ کرشی بھون اور شاستری بھون کی جگہ پر ’کامن سینٹرل سیکریٹریٹ‘ کی عمارت نمبر 4 اور 5 تعمیر کی جانی ہیں، جو کہ ’انتہائی قومی اہمیت‘ کا منصوبہ ہے۔

حکومت نے یہ دلیل بھی دی ہے کہ کسی بھی مرکزی انتظامی احاطے کے اندر مستقل مذہبی ڈھانچے کی موجودگی ’سرکاری املاک کے سیکولر کردار کے سراسر خلاف ہے۔‘ حکومت کے مطابق، 1940 کے ایک معاہدے کے تحت مسجد کمیٹی کو محض مشروط قبضہ دیا گیا تھا، جو کسی بھی قسم کا مستقل قانونی حق فراہم نہیں کرتا۔

آئینی حقوق کی دہائی اور حکومت کا انکار

قدیمی مسجد دہائیوں سے کرشی بھون، شاستری بھون اور آس پاس کی وزارتوں میں کام کرنے والے مسلم ملازمین کے لیے عبادت کا اہم مرکز رہی ہے۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے ستمبر میں ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ کمیٹی نے ترقیاتی کام (سینٹرل وسٹا) کی مخالفت نہ کرتے ہوئے صرف اتنی گزارش کی تھی کہ یا تو مسجد کو محفوظ رکھا جائے، یا پھر احاطے کے قریب ہی عبادت کے لیے کوئی متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

تاہم، مرکز نے آئین کے آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی کا حق) کے تحت دی گئی اس دلیل کو یکسر مسترد کر دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی سرکاری زمین پر کسی خاص مقام پر ہی نماز پڑھنے کا مطالبہ کرنا کوئی بنیادی حق نہیں ہے۔ متبادل کے طور پر حکومت نے ملازمین کو 2 کلومیٹر دور انڈیا گیٹ کے پاس واقع ’شاہی مسجد ضابطہ گنج‘ جانے کا مشورہ دیا ہے۔

سیاسی اور سماجی سوالات: کیا بہانے سے نشانہ بنائے جا رہے ہیں مذہبی مقامات؟

حکومت کے اس حلف نامے کے بعد اقلیتی طبقے اور شہری حقوق کے کارکنوں کے درمیان گہری ناراضگی اور تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اکلوتا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے ترقی، تجاوزات ہٹانے اور نئے قوانین کی آڑ میں مسلسل صدیوں پرانی مساجد اور درگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اپوزیشن اور سماجی تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت اکثریتی طبقے کے ایک خاص حصے اور دائیں بازو کی تنظیموں کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کی کارروائیوں کو انجام دے رہی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب سرکاری دفاتر میں دیگر مذہبی رسومات اور پوجا پاٹ کے پروگرام ہوتے ہیں، تب ’سیکولر ڈھانچے‘ کی دلیل کیوں نہیں دی جاتی؟

مسلم طبقے کے لوگوں کا ماننا ہے کہ کبھی وقف قوانین میں تبدیلی کے نام پر، تو کبھی ماسٹر پلان اور سڑک چوڑی کرنے کے بہانے ایسے قاعدے قوانین اور حالات پیدا کیے جا رہے ہیں، جن سے مسلمانوں کو اپنے ہی تاریخی اور مذہبی مقامات سے بے دخل ہونا پڑ رہا ہے۔ روزمرہ کی ڈیوٹی کے دوران 2 کلومیٹر دور جا کر نماز پڑھنے کا سرکاری مشورہ عملی حل کم اور کمیونٹی کی مذہبی ضروریات کو نظر انداز کرنا زیادہ نظر آتا ہے۔

اب سب کی نگاہیں دہلی ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے پر ٹکی ہیں کہ آیا یہ تاریخی عبادت گاہ محفوظ رہ پائے گی یا ترقی کے نئے نقشے میں اس کا وجود مٹا دیا جائے گا۔