https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/1645_2026-08-03_islamictube.jpg

بہار: سمری بختِیار پور اسٹیشن پر مسافر ٹرین میں خوفناک آگ، بڑا حادثہ ٹل گیا؛ متعدد ٹرینیں متاثر

سہرسا (بہار): سہرسا ضلع کے سمری بختِیار پور ریلوے اسٹیشن پر پیر کے روز تڑکے اس وقت ہڑکمپ مچ گیا، جب سمستی پور-سہرسا پاسنجر ٹرین (نمبر 63344) کے انجن اور اس سے جڑے ایک ڈبے میں اچانک خوفناک آگ لگ گئی۔ خوش قسمتی سے ریلوے ملازمین اور مقامی لوگوں کی بروقت کارروائی سے تمام مسافروں کو محفوظ باہر نکال لیا گیا، جس سے ایک بڑا ریلوے حادثہ ٹل گیا۔

مسافر نیند میں تھے، چیخ و پکار مچ گئی

واقعہ پیر تڑکے تقریباً 3 بجے کا ہے۔ جیسے ہی ٹرین سمری بختِیار پور اسٹیشن پر رکی، اس کے انجن سے اچانک تیز دھواں اور لپٹیں نکلنے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے ہولناک روپ دھار لیا اور قریب موجود ڈبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔ دھویں اور آگ کی لپٹوں کو دیکھ کر اسٹیشن کے احاطے میں بھگڈر مچ گئی۔ مسافروں کی چیخ و پکار کے درمیان لوگ اپنی جان بچانے کے لیے کھڑکیوں اور دروازوں سے باہر بھاگنے لگے۔

ڈھائی گھنٹے کی مشقت کے بعد آگ پر قابو

حادثے کی اطلاع ملتے ہی آر پی ایف، مقامی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ فائر فائٹرز کو آگ بجھانے میں سخت مشقت کرنی پڑی۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے کی انتھک کوششوں کے بعد صبح 5:30 بجے آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا۔ اس کے بعد صبح تقریباً 6 بجے ریلوے ٹریک کو صاف کر کے نقل و حمل کو دوبارہ معمول پر لایا گیا۔

متعدد اہم ٹرینیں متاثر ہوئیں

سمری بختِیار پور کے اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ سنجے کمار سجن نے بتایا کہ اس آتشزدگی کے باعث ریلوے آپریشن شدید متاثر ہوا اور کئی اہم ٹرینیں اپنی مقررہ وقت سے کافی تاخیر سے چلیں:

کوسی ایکسپریس (سہرسا–پٹنہ)

جانکی ایکسپریس (منیہاری–جئے نگر)

سہرسا–سمستی پور پاسنجر

شراونی اسپیشل (سہرسا–دیوگھر)

شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کا خدشہ

ابتدائی تحقیقات میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ شارٹ سرکٹ کو مانا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد ریلوے اور مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے موقع کا معائنہ کیا۔ ریلوے انتظامیہ نے حادثے کی اصل وجہ کا پتہ لگانے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔