*_وقف ترمیمی بل کی نا منظوری کے سلسلے میں دعا کے اہتمام کی درخواست_* موصولہ اطلاعات کے مطابق وقف ترمیمی بل کل دوپہر 12:00 بجے پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا، وقف ترمیمی بل کے نقصانات و خطرات سے آپ حضرات بخوبی واقف ہیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت تمام ملی تنظیموں نے اس وقف ترمیمی بل کے روکنے کی ہمہ جہتیں کوششیں کی ہیں، اب وقتِ دعا ہے اس لیے کہ کوششوں اور کاوشوں میں رنگ بھرنے والی چیز دعا ہی ہے اور یہی مومن کا ہتھیار ہے، اس لئے تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ دعا کا خوب اہتمام فرمائیں اور *"حسبنا الله ونعم الوكيل"* اور آیت کریمہ *"لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين"* بکثرت پڑھ کر بارگاہِ الہی میں درخواست و التجا پیش کریں، صرف تدبیروں پر بھروسہ کرنا مومن کا شیوہ نہیں ہے بلکہ تدبیریں اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اس سے لو لگانا یہ مومنوں کا طریقہ اور ان کا شیوہ و شعار ہونا چاہیے - مجھے امید ہے کہ آپ حضرات ضرور اس جانب توجہ دیں گے بإذن اللہ - *والسلام* *محمد عمرین محفوظ رحمانی* *سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں، مہاراشٹر*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

کہانی ایک راز کی

کہانی ایک راز کی

ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا ۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا ۔ بہت سے لوگوں نے اس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا ۔ ایک روز اُسکے وزیر خاص نے بادشاہ سے اس راز کو جاننے کی ٹھان لی ، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان ادھر اُدھر ہو جائے ، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا ، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ۔ لیکن اُسے ایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اسے سخت سزا بھگتنا ہوگی ۔ بادشاہ نے بتایا کہ اُس کے سر پر ایک سینگ ہے ، اسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ! اس بات کو کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے ۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا ۔ اُس نے اپنے اُس وزیر خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزادی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ وزیر بہت سمجھدار تھا ، وہ جھٹ سے بولا : بادشاہ سلامت ! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ امید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔ سبق : زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں: پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آسکتے ۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں ۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے ۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں ، وہ آپکے غلام ہوتے ہیں ۔ اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں ، پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو۔ اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے ___________📝📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ