روزہ کی عظمت اور اس کا اجر و ثواب علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں: تمام عبادات میں روزہ کو تقویٰ کی اصل اور بنیاد اس لیے بھی قرار دیا گیا ہے کہ یہ ایک مخفی خاموش عبادت ہے، جو ریا اور نمائش سے بری ہے۔ جب تک خود انسان اس کا اظہار نہ کرے، دوسروں پر اس کا راز افشا نہیں ہوسکتا اور یہی چیز تمام عبادات کی جڑ اور اخلاق کی بنیاد ہے۔ اسی اخلاص اور بے ریائی کا یہ اثر ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے اس کی نسبت فرمایا کہ روزہ دار میرے لیے اپنا کھانا پینا اور ملذذات کو چھوڑتا ہے۔ "الصوم لي وأنا أجزي به" روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا۔" جزا تو ہر کام کی وہی دیتا ہے، لیکن صرف اس کی عظمت اور بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے، اس کی جزا کو خود اپنی طرف منسوب فرمایا اور بعض علماء کے نزدیک، اس کا اشارہ قرآن پاک کی اس آیت میں ہے: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (الزمر: ۱۰) "صبر کرنے والوں کو مزدوری بے حساب پوری کی جائے گی۔" اور اتنا ظاہر ہے کہ روزہ کی مشقت اٹھانا بھی صبر کی ایک قسم ہے، اس لیے روزہ دار بھی صابرین کی جماعت میں داخل ہوکر، اجر بے حساب کے مستحق ہوں گے۔ سیرت النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم/جلد: پنجم/صفحہ: ۱۷۹/۱۸۰/

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

فتنہ قادیانیت کا پس منظر(مختصراً)

فتنہ قادیانیت کا پس منظر(مختصراً)

برصغیر پاک و ہند میں جب انگریز اپنے ظلم و ستم اور زیادتیوں کے باوجود مسلمانوں کو مغلوب نہ کر سکا تو اس نے ایک کمیشن کے ذریعے اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے پورے ہندوستان کا سروے کرایا۔ کمیشن نے یہ رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کو مغلوب کرنے کے لیے ان کے دلوں سے جذبہ جہاد مٹانا بے حد ضروری ہے اور اس کا طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ یہاں کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعوی کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو لازم سمجھتا ہو۔ اس مقصد کیلئے انگریز نے مرزاغ غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا ، جو اس وقت کسی سرکاری ادارے میں کلرک کے طور پر کام کر رہا تھا ، اس کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ قادیانی خاندان شروع دن سے مسلمانوں کے خلاف رہا ہے، انہوں نے سکھوں کے دور اقتدار میں سکھوں کیساتھ مل کر پنجاب کے مختلف علاقوں میں مسلمان حریت پسندوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور پھر انگریزوں کے دور میں بھی مسلمان مجاہدین کے خلاف نبرد آزما ہوئے ۔ مرزا قادیانی نے جہاد کی حرمت اور انگریزوں کی اطاعت کو لازم قرار دیا اور پھر اس نے بتدریج خادم اسلام مبلغ اسلام مجدد، امام مہدی مثیلِ عیسی ظلی نبی (یعنی نبی کا سایہ )، بروزی نبی ، مستقل نبی حتی کہ خدائی تک کا دعوی کیا۔ یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے اور خطر ناک سازش کے تحت کیا گیا۔ (کتاب: ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹك ستمبر۔ صفحہ نمبر: ۱۱۹۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)