ملفوظ: رمضان کی تیسری عبادت اعتکاف
*ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد...
Ummah Post
21 March, 2025

ملفوظ: رمضان کی تیسری عبادت اعتکاف

*ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*

*رمضان کی تیسری عبادت اعتکاف*

ارشاد فرمایا کہ رمضان میں (روزہ اور تراویح کے علاوہ) ایک تیسری عبادت اور بھی ہے یعنی رمضان المبارک کے اخیر دس دن میں اعتکاف۔ یہ ایسی سنت ہے کہ سب کے ذمہ اس کا ادا کرنا ضروری ہے لیکن اگر بستی میں ایک شخص اعتکاف کرلے تو سب کی طرف سے کافی ہے (ورنہ سب گنہگار ہوں گے)۔ اور اعتکاف اسی کو کہتے ہیں کہ یہ ارادہ کرکے مسجد میں پڑا رہے کہ اتنے دن تک پیشاب یا پاخانہ وغیرہ کی مجبوری کے بغیر یہاں سے نہ نکلوں گا۔ اور روزہ اور تراویح کی طرح اس میں بھی نفس کی ایک پیاری چیز چھوٹتی ہے یعنی کھلے مہار (آزاد ہو کر گھومنا) پھرنا، اور اسی طرح اس میں بھی دکھلاوا نہیں ہوسکتا کیونکہ کسی کو کیا خبر کہ مسجد میں کسی خاص نیت سے بیٹھا ہے یا ویسے ہی آگیا ہے۔

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رمضان میں دس روز کا اعتکاف کرے اس کو دو حج اور دوعمرہ جیسا ثواب ہوگا (بیہقی)۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے حق میں فرمایا کہ وہ تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے اور اس کو ثواب ایسا ملتا ہے جیسے کوئی تمام نیکیاں کررہا ہو (مشکوۃ از ابن ماجہ)۔ اور ایک فضیلت اس میں یہ بھی ہے اس میں مسجد میں حاضر رہنا پڑتا ہے اور حدیث شریف میں مسجد میں رہنے کی بہت بڑی فضیلت آئی ہے۔ البتہ عورتیں گھر ہی میں اپنے نماز پڑھنے کی جگہ اعتکاف کریں۔

(احکامِ اعتکاف، صفحہ ۱۵)

Share this article
خواص میں نرم مزاجی کی ضرورت واہمیت
مضامین

خواص میں نرم مزاجی کی ضرورت واہمیت

اہل علم اور خواص کے طبقہ میں نرم مزاجی اور نرم خوئی از حد ضروری ہے۔ سخت لب ولہجہ میں بات کرنا اور کسی بات پر ناراض ہونا اگر تربیت اور اصلاح کے جذبہ سے ہو تو ظاہر ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اگر اس کا منشا محض اپنے غصہ کی تسکین اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہو تو یہ علماء اور خواص کی شان کے خلا...