ایک ہوائی جہاز کا صفائی کرنے والا کاک پٹ کی صفائی کر رہا تھا کہ اس نے پائلٹ کی سیٹ پر ایک کتاب دیکھی جس کا عنوان تھا: "ابتدائیوں کے لیے پرواز کا طریقہ (صفحہ 1)" اس نے کتاب کا پہلا صفحہ کھولا، جہاں لکھا تھا: "انجن چلانے کے لیے سرخ بٹن دبائیں" اس نے ہدایات پر عمل کیا اور طیارے کا انجن چل گیا۔ یہ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ پھر وہ اگلے صفحے پر گیا، جہاں لکھا تھا: "طیارے کو حرکت میں لانے کے لیے نیلا بٹن دبائیں" اس نے بٹن دبایا اور طیارہ حیرت انگیز رفتار سے حرکت کرنے لگا۔ اب وہ طیارہ اڑانے کا خواہشمند تھا، اس لیے اس نے تیسرا صفحہ کھولا، جہاں لکھا تھا: "طیارے کو اڑانے کے لیے سبز بٹن دبائیں" اس نے بٹن دبایا اور طیارہ فضا میں بلند ہو گیا۔ وہ بہت پرجوش تھا! مگر مشکل تب شروع ہوئی... 20 منٹ کی پرواز کے بعد، اس نے لینڈنگ کرنے کا سوچا۔ چنانچہ اس نے چوتھا صفحہ کھولا تاکہ ہدایات معلوم کرے۔ لیکن چوتھے صفحے پر لکھا تھا: "لینڈنگ کا طریقہ جاننے کے لیے کتاب 2 خریدیں۔" سبق اور نصیحت: کسی بھی کام کو مکمل معلومات کے بغیر نہ کریں۔ ادھورا علم خطرناک نہیں بلکہ تباہ کن ہوتا ہے!

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ

گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ

ایک نوجوان اپنی زندگی کے معاملات سے کافی پریشان تھا ۔ اک روزایک درویش  سے ملا قات ہو گئی تواپنا حال  کہہ سنایا ۔ کہنے لگا کہ بہت پریشان ہوں۔ یہ دکھ اور پریشانیاں اب میری برداشت ہے باہر ہیں ۔ لگتا ہے شائد میری موت ہی مجھے ان غموں سے نجات دلا سکتی ہے۔ درویش نے اس کی بات سنی اور کہا جاؤ اور نمک لے کر آؤ۔ نوجوان حیران تو ہوا کہ میری بات کا نمک سے کیا تعلق پر پھر بھی  لے آیا ۔ درویش نے کہا پانی کے گلاس میں ایک مٹھی نمک ڈالو اور اسے پی لو۔ نوجوان نے ایسا ہی کیا تو درویش نے پوچھا : اس کا ذائقہ کیسا لگا ؟ نوجوان تھوكتے ہوئے بولا بہت ہی خراب، ایک دم کھارا درویش مسکراتے ہوئے بولا اب ایک مٹھی نمک لے کر میرے ساتھ اس سامنے والی جھیل تک چلو۔ صاف پانی سے بنی اس جھیل کے سامنے پہنچ کر درویش نے کہا چلو اب اس مٹھی بھر نمک کو پانی میں ڈال دو اور پھر اس جھیل کا پانی پیو۔ نوجوان پانی پینے لگا، تو درویش نے پوچھا بتاؤ اس کا ذائقہ کیسا ہے، کیا اب بھی تمہیں یہ کھارا لگ رہا ہے ؟ نوجوان بولا نہیں ، یہ تو میٹھا ہے۔ بہت اچھا ہے۔ درویش نوجوان کے پاس بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ہمارے دکھ بالکل اسی نمک کی طرح ہیں ۔ جتنا نمک گلاس میں ڈالا تھا اتنا ہی جھیل میں ڈالا ہے۔ مگر گلاس کا پانی کڑوا ہو گیا اور جھیل کے پانی کو مٹھی بھر نمک سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسی طرح انسان بھی اپنے اپنے ظرف کے مطابق تکلیفوں کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔ جب تمھیں کوئی دکھ ملے تو خود کو بڑا کر لو، گلاس مت بنے رہو بلکہ جھیل بن جاؤ۔ اللہ تعالی کسی پر اس کی ہمت سے ذیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔   اس لئے ہمیں ہمیشہ یقین رکھنا چاہیے کہ جتنے بھی دکھ آئیں ہماری برداشت سے بڑھ کر نہیں ہوں گے... ــــــــــــــــــــــــــ📝📝ــــــــــــــــــــــــــ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ