فیوڈور دوستوفسکی اپنی ناول ”المساكين“ میں کہتے ہیں:

شاید می...
Ummah Post
26 August, 2025

فیوڈور دوستوفسکی اپنی ناول ”المساكين“ میں کہتے ہیں:

شاید میں جلد مر جاؤں، تب کوئی مجھے یاد نہیں کرے گا، اور نہ ہی میری قبر پر کوئی رُکے گا۔ کچھ لوگ جو مجھے جانتے تھے کہیں گے: وہ شریف اور نیک آدمی تھا، اور کچھ دوسرے کہیں گے: وہ کمینہ اور گھٹیا تھا۔

میرا ورق زندگی کے رجسٹر سے لپیٹ دیا جائے گا، اور میرے آنے کا کوئی نشان باقی نہ رہے گا۔ زندگی میرے بعد بھی ویسی ہی چلے گی جیسی پہلے تھی، اُس میں کچھ نہیں بدلے گا، سورج روز کی طرح طلوع ہوگا اور شام کو غروب ہو جائے گا۔

واحد چیز جو بدلے گی، وہ میری غیر موجودگی ہوگی۔

اور یوں میں نے اپنی ساری زندگی بےچینی اور شک میں گزار دی، اُس سے ڈرتا رہا جو ہو چکا، اور اُس سے بھی جو ہونے والا ہے، خود کو بھول بیٹھا اور دوسروں کی باتوں میں اُلجھا رہا۔

Share this article
مکھی کیوں پیدا کی گئی؟
مضامین

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی...