`بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ` ‎ ‎•┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈• ‎*❂_ Log Kehte hai'n k Sach Kadwa Hota hai Magar Haqeeqat ye hai K Sachchayi Khud Takleef dah Nahi Hoti Balki Use Pesh Karne Ka Andaz aur Lehja Agar Sakht Ho to Wo Doosro Ko Chubhta hai, Sach Bole'n magar Ese k Dil bhi Jeete aur Baat bhi Asar Kare _,* ‎ •••✦✿✦•••‎ *لوگ کہتے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سچائی خود تکلیف دہ نہیں ہوتی بلکہ اسے پیش کرنے کا انداز اور لہجہ اگر سخت ہو تو وہ دوسروں کو چبھتا ہے۔ سچ بولیں مگر ایسے کہ دل بھی جیتیں اور بات بھی اثر کرے _,* ‎ ‎*❂ _People say that the truth is bitter, but the truth itself is not painful, but rather the way and tone of presenting it is harsh, then it stings others. Speak the truth, but in such a way that it wins hearts and makes an impact _,* ‎ •••✦✿✦••• ‎*❂_ लोग कहते हैं कि सच कड़वा होता है मगर हक़ीक़त ये है कि सच्चाई खुद तकलीफ़ दह नहीं होती बल्कि उसे पेश करने का अंदाज़ और लहजा अगर सख्त हो तो वो दूसरों को चुभता है, सच बोलें लेकिन ऐसे कि दिल भी जीतें और बात भी असर करे_,* ‎*━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─* ‎ ‎> - *یہ میسیج واٹساپ پر براڈکاسٹ کے ذریعے حاصل کرنے کے لئے آپ رابطہ کر سکتے ہیں* ‎> +91 9084646374 `Israeel Fani Araria` ✍🏻 ‎ ‎*━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─* ‎

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خوفِ الٰہی بھی معرفت کا نتیجہ ہے _!!

خوفِ الٰہی بھی معرفت کا نتیجہ ہے _!!

امام جلال الدین رومی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی سفر پر نکلا ، جنگل میں چلتا رہا ، جنگل میں بہت دور چلنے کے بعد اُسے تھکان ہوئی اور تھکان کی وجہ سے نیند غالب ہوگئی ، اس نے سوچا کہ کہیں آرام کرلوں ؛ لیکن آرام کرنے اس لئے ہمت نہیں ہوئی کہ جنگل کا راستہ ہے جنگل کے راستے میں کیسے آرام کروں ؟ سوچتا رہا کہ کوئی چیز مجھے ایسی مل جائے ؛ جس کی وجہ سے مجھے کچھ سہارا مل جائے ، تو میں آرام کرلوں ، بہت آگے جانے کے بعد دیکھا کہ ایک جانور سویا ہوا ہے ، اس نے کہا کہ بہت اچھا ، یہ کوئی و جانور سو رہا ہے ، میں بھی اس کے بازو سو جاؤں ۔ چنانچہ جانور کے بازو ، وہ بھی جاکر لیٹ گیا ، نیند کا اتنا غلبہ تھا ، تھکان ایسی تھی کہ بس پڑتے ہی نیند لگ گئی ، کچھ دیر بعد اسی راستے سے ایک دو آدمی آرہے تھے ، پیچھے سے آتے آتے جب وہ وہاں پہنچے ، تو ایک عجیب منظر انھوں نے دیکھا کہ ایک انسان سویا ہوا ہے اور اس کے بازو جو جانور سویا ہوا ہے ، وہ حقیقت میں شیر ہے ، یہ لوگ بہت پریشان ہوئے کہ کہیں یہ شیر جاگے اور اس بے چارے کو کھا جائے ۔ انھوں نے آہستہ سے سونے والے کو آواز دی اور جگایا ، جب وہ جاگا تو ان لوگوں نے اس سے کہا کہ کہاں سوئے ہو ؟ وہ تمھارے بازو شیر ہے شیر ! بس جناب اتنا سنتے ہی وہ گھبرایا پریشان ہوا اور ڈر کے مارے اس کی جان نکل گئی اور مرگیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوف بھی معرفت و پہچان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ، اگر معرفت و پہچان نہ ہو ؛ تو خوف نہیں آسکتا ، جب پہچان ہوگی ؛ تو خوف آجائے گا۔ دیکھیے! جب تک اسے شیر کی معرفت و پہچان نہیں تھی ، تو اس پر شیر کا خوف بھی پیدا نہیں ہوا ، جیسے ہی شیر کی معرفت حاصل ہوئی ، تو اس کا خوف بھی پیدا ہوا اور وہ مر گیا ہے۔ اسی طرح جب اللہ کی پہچان انسان کو ہوجاتی ہے کہ اللہ کتنا بڑا اور زبردست ہے ، کتنی بڑی طاقت والا ہے ؟ وہ کیا سے کیا کرسکتا ہے ؟ جب یہ پہچان اللہ کی انسان کو ہوگی ، تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کے دل کے اندر کوئی ہلچل نہ مچے اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ ہو ۔ ____📝📝📝____ کتاب : واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے ۔ صفحہ نمبر: ٧٨-٧٩۔ صاحب کتاب : حضرت مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی ۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔