روس کے ادب کو انسانی نفسیات کی گہرائی اور حقیقت نگاری کی وجہ...
Ummah Post
11 June, 2025

روس کے ادب کو انسانی نفسیات کی گہرائی اور حقیقت نگاری کی وجہ سے منفرد مقام حاصل ہے۔

•"اگر تم میری تکلیفوں پر بھی قابض ہو جاؤ... میں پہلے والا انسان نہیں رہوں گا۔"

— فیودر داستایفسکی (کتاب: "برادران کارامازوف")

• "جو لوگ اجتماعی المیے میں اکٹھے ہوتے ہیں، وہ اکثر ایک دوسرے سے بے حسی محسوس کرتے ہیں۔"

— اینٹن چیخوف (کتاب: "دی سیگل")

• "یادداشت کا المیہ یہ ہے کہ ہم جسے بھولنا چاہتے ہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔"

— داستایفسکی (کتاب: "یادوں کے اُجالے میں")

• "جب کوئی تمہیں دھوکہ دے تو معافی دے سکتے ہو، مگر پھر کبھی اُسے اپنے قریب مت آنے دو۔"

— لیو ٹالسٹائی (کتاب: "انا کرینینا")

•"انسان کو اُس وقت تک کوئی شفا نہیں دے سکتا جب تک وہ اپنے ماضی کے پچھتاوے کو سینے سے لگائے رکھے۔"

— داستایفسکی (کتاب: "جرم و سزا")

• "سردیاں اُن کے لیے بھی اتنی ہی بے رحم ہوتی ہیں جن کے پاس گرم یادیں نہیں، اور اُن کے لیے بھی جو یادیں لے کر زندہ رہتے ہیں۔"

— داستایفسکی (کتاب: "ابدی شوہر")

• "محبت کے سب سے خوبصورت لمحے وہ ہوتے ہیں جو جدائی سے پہلے آتے ہیں۔"

— داستایفسکی (کتاب: "نیچے تہہ خانے سے")

• "میری فتحوں پر مت جاؤ، بلکہ اُن شکستوں پر غور کرو جن سے میں نے زندگی سیکھی۔"

— چیخوف (کتاب: "جزیرہ سخالین")

• "کھڑکی کے کنارے بیٹھنے والے راستوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، بس خوابوں میں کھوے رہتے ہیں۔"

— میخائل لیرمنٹوف (کتاب: "ہمارے زمانے کا ایک ہیرو")

• "اُس بوڑھے سے بدتر کوئی نہیں جو اپنے خواب اپنے بیٹے کے سپرد کر کے خود مہمان خانے میں سو جاتا ہے۔"

— داستایفسکی (کتاب: "برادران کارامازوف")

Share this article
فیک لائف کا فتنہ
مضامین

فیک لائف کا فتنہ

انسان کے اخلاقی وجود کو جو خطرناک بیماریاں لاحق ہیں ان میں جھوٹ اور مبالغے پر مبنی زندگی گزار نے کافتنہ آج کل کے دور میں سر فہرست ہے۔ ایک وقت تھا کہ انسان کی زندگی کے نجی پہلو پوشیدہ رہتے تھے مگر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے دور میں اب کوئی چیز پرائیویٹ رہی ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی فیلمی لائف...