جرات کی بات ہے مگر میں تجربہ سے کہتا ہوں کہ علم دین شروع کرتے وقت اگر نیت عمل کی نہ بھی ہو تو پرواہ مت کرو، علم دن وہ چیز ہے کہ نیت کو بھی ٹھیک کر لے گا علم دین وہ چیز ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ اپنا اثر ضرور کرتا ہے اور اس شخص کو اپنا بنا لیتا ہے ایک بزرگ کا قول ہے وہ فرماتے ہیں تعلمنا لغیر اللہ فابی العلم الا ان یکون للہ‌۔ یعنی ہم نے علم پڑا تھا غیر اللہ کے لیے مگر علم نے خود ہی نہ مانا اور اللہ میاں ہی کا ہو کر رہا۔مطلب یہ ہے کہ ابتدا میں خلوص نہ تھا مگر انتہا میں خلوص پیدا ہو ہی گیا اس واسطے میں کہتا ہوں کہ اگر عمل کی توفیق نہ بھی ہو تب بھی علم پڑھے جاؤ ان شاءاللہ ضرور عمل نصیب ہوگا۔میں کہتا ہوں کے علم عربی وہ علم ہے کہ ہر چیز کو اس سے انجلاء ہوتا ہے اخلاق بھی اس سے درست ہوتے ہیں جب آدمی ہمیشہ فقراء و اہل اللہ کے قصے اور حالات پڑھے گا تو کب تک اثر نہ ہوگا ہاں ! یہ خیال رکھو کہ معصیت کا بھی عزم مت کرو معصیت سے نورعلم مٹ جاتا ہے اگر خلوص نہ ہو تو پرواہ نہ کرو لیکن بالقصد معصیت کے پیچھے بھی مت پڑھو اور بے باک مت ہو جاؤ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے استاذ سے اپنے حافظہ کی شکایت کی انہوں نے جو جواب دیا اس کو اس طرح نقل فرماتے ہیں شکوت الی وکیع سوء حفظی فاوصانی الی ترک المعاصی فان العلم فضل من الہ وفضل اللہ لا یعطی لعاصی یعنی میں نےاپنے استاد وکیع سے سوء حافظ کی شکایت کی انہوں نے مجھ کو نصیحت کی کے گناہوں کو چھوڑ دو کیونکہ علم اللہ کا فضل ہے اور اللہ کا فضل گنہگار کو نصیب نہیں ہوتا

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یاد میں تیری سب کو بھلا دوں

یاد میں تیری سب کو بھلا دوں

حضرت یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ جن کو حقائق و دقائق پر مکمل دسترس حاصل تھی ، اور جن کے متعلق بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انبیاء میں حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما الصلوۃ والسلام کا مقام ہے اسی طرح بزرگان دین میں حضرت یحییٰ بن معاذ رحمہ اللہ تعالیٰ کی حیثیت ہے۔ تاثر آمیز مواعظ کی وجہ سے آپ کو واعظ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ آپ کے ایک بھائی بحیثیت مجاور کے مکہ معظمہ میں بھی مقیم تھے اور انہوں نے وہاں سے تحریر کیا کہ مجھے تین چیزوں کی بے حد تمنا تھی اول یہ کہ کسی متبرک مقام پر سکونت کا موقعہ مل جائے، دوم یہ کہ میری خدمت کے لئے ایک نیک خادم بھی ہو، لہذا یہ دونوں خواہشیں پوری ہو گئیں۔ اب تیسری خواہش یہ ہے کہ مرنے سے پہلے ایک مرتبہ آپ سے ملاقات ہو جائے یہ میری دلی خواہش ہے خدا سے دعا کیجئے کہ وہ اپنی قدرت سے یہ تمنا بھی پوری کر دے، آپ رحمہ اللہ تعالٰی نے جواب میں یہ تحریر فرمایا کہ انسان کو تو بذات خود متبرک ہونا چاہئے تا کہ اس کی برکت سے جائے قیام بھی متبرک ہو جائے، دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو تو خود خادم بننا چاہئے تھا نہ کہ مخدوم ، انسان کی شان ہی غلامی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپ خدا کی یاد سے غافل نہ ہوتے تو میں آپ کو ہرگز یاد نہ آتا۔ لہذا یاد الہی میں بہن بھائی بیوی بچے سب کو فراموش کر دینا چاہئے ، اگر آپ دنیا میں عبادت سے خدا ہی کو راضی نہیں کر سکتے تو پھر مجھ سے ملاقات بھی بے سود ہے۔ ( تذکرۃ الاولیاء : صفحه ۱۷۳) خواجہ مجذوب فرماتے ہیں۔ یاد میں تیری سب کو بھلا دوں کوئی نہ مجھ کو یا در ہے تجھ پر سب گھر بار لٹا دوں خانہ دل آباد رہے سب خوشیوں کو آگ لگا دوں غم سے ترے دل شاد رہے سب کو نظر سے اپنی گرادوں تجھ سے فقط فریا د رہے اب تو رہے بس تا دم آخر ورد زباں اے میرے اله لا اله الا الله لا اله الله (کتاب : اسلاف کی یادیں۔ صفحہ: ۲۲۷۔۲۲۸ ۔ مصنف: حضرت مولانا مفتی اسد اللہ عمر نعمانی۔ ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)