حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے بارے میں بات پوری ہوچکی ہے۔ اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔(۷)(آسان ترجمۃ القران)
یعنی: مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں تقدیر میں جو بات لکھی تھی کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، وہ بات پوری ہورہی ہے ؛ لیکن یہ واضح رہے کہ تقدیر میں لکھا ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر مجبور ہوگئے ہیں، کیونکہ تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایمان لانے کا موقع بھی دے گا اور اختیار بھی دے گا ؛ لیکن یہ لوگ اپنے اختیار اور اپنی خوشی سے ضد پر اڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔(آسان ترجمۃ القران)
معتصم باللہ کے بعد اس کا بیٹا واثق باللہ ۲۲۷ ھ میں تاج و تخت کا وارث بنا۔ یہ گمراہ کن نظریات و افکار کا مالک تھا اور معتزلی عقائد اور خصوصاً خلق قرآن کے عقیدہ کی اشاعت و پرچار میں اپنے باپ سے بھی بڑھ گیا۔ اس کے دور میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا، دربار کا خاص مسخرا ایک دن خلیفہ کے سامنے آیا اور کہنے لگا...