آیۃ القران

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ(۲۲)(سورۃ حم السجدہ)
ترجمہ
اور تم (گناہ کرتے وقت) اس بات سے تو چھپ ہی نہیں سکتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں لیکن تمہارا گمان یہ تھا کہ اللہ کو تمہارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہے (۲۲)(آسان ترجمۃ القران) یعنی: صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض احمق کافر یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ کوئی گناہ چھپ کر کریں گے تو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوگا، اس وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے گناہ کا نہ کوئی گواہ ہے، اور نہ (معاذ اللہ) اللہ تعالیٰ کو اس کا پتہ چلے گا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو ہر بات کا گواہ ہے ہی، خود ان کے جسم کے یہ اعضاء بھی ان کے خلاف گواہ بن جائیں گے۔(آسان ترجمۃ القران)
پرسکون زندگی کا راز
مضامین

پرسکون زندگی کا راز

ایک عورت بڑی تیزی سے بس میں سوار ہوئی اور ایک عورت کے برابر نشست پر جا بیٹھی اسکے پرس نے ساتھ بیٹھے عورت کو چوٹ پہنچائی . عورت خاموش رہی ، اس عورت کو خاموش دیکھ کر عورت نے سوال کیا کہ تم میرے پرس سے چوٹ پہنچنے کے باوجود خاموش کیوں رہی؟ عورت مسکرائی اور گویا ہوئی : ایک معمولی سی چیز کے لیے مجھے بر...

دیگر کتب

مزید کتب

Latest Naats

More Naats

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں