اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ(۳)بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ(۴)(سورۃ القیامہ)
ترجمہ
کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو اکٹھا نہیں کرسکیں گے ؟(۳)کیوں نہیں ؟ جبکہ ہمیں اس پر بھی قدرت ہے کہ اس کی انگلیوں کے پور پور کو ٹھیک ٹھیک بنادیں۔(۴)(آسان ترجمۃ القران)
فرمایا جارہا ہے : کہ ہڈیوں کو جمع کرلینا تو بہت معمولی بات ہے، اللہ تعالیٰ تو انسان کی انگلیوں کے ایک ایک پورے دوبارہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح دوبارہ بنانے پر قادر ہیں، جیسے وہ شروع میں تھے، انگلیوں کے پورے کا خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان پوروں میں جو باریک باریک لکیریں ہوتی ہیں، وہ ہر انسان کی دوسرے سے الگ ہوتی ہیں، اسی وجہ سے دنیا میں دستخط کے بجائے انگوٹھے کے نشان کو استعمال کیا جاتا ہے، ان لکیروں میں اتنا باریک باریک فرق ہوتا ہے کہ اربوں پدموں انسانوں کی انگلیوں کے اس فرق کو یاد رکھ کر پھر دوبارہ ویسی ہی لکیریں بنادینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔(آسان ترجمۃ القران)