آیۃ القران

لَا أُقْسِمُ بِهَٰذَا الْبَلَدِ (۱) وَأَنتَ حِلٌّ بِهَٰذَا الْبَلَدِ (۲) وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ (۳) لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ (۴)(سورۃ البلد)
ترجمہ
میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی (۱) جبکہ(اے پیغمبر!) تم اس شہر میں مقیم ہوں(۲) اور(قسم کھاتا ہوں) باپ کی اور اُس کی اولاد کی(۳) کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے(۴)(یہ وہ بات ہے جو قسم کھاکر فرمائی گئی ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مشقت میں لگا رہتا ہے ۔ چاہے کوئی کتنا بڑا حاکم ہو، یا دولت مند شخص ہو، اُسے زندہ رہنے کے لئے مشقت اٹھانی ہی پڑتی ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اُسے دُنیا میں کبھی کوئی محنت کرنی نہ پڑے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے ۔ ایسا کبھی ممکن ہی نہیں ہے۔ آسان ترجمۃ القران)
علم کا بدصورت عاشق :
مضامین

علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی...

دیگر کتب

مزید کتب

Latest Naats

More Naats

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں