وَ لَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗ اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۸)(سورۃ ھود)
ترجمہ
اور اگر ہم ان لوگوں سے کچھ عرصے کے لیے عذاب کو موخر کردیں تو وہ یہی کہتے رہیں گے کہ : آخر کس چیز نے اس (عذاب) کو روک رکھا ہے ؟ ارے جس دن وہ عذاب آگیا تو وہ ان سے ٹلائے نہیں ٹلے گا، اور جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں، وہ ان کو چاروں طرف سے گھیر لے گی۔(۸)(آسان ترجمۃ القران)
یعنی: یہ بات کہہ کر وہ در اصل آخرت اور عذاب الٰہی کا مذاق اڑاتے تھے۔(آسان ترجمۃ القران)