اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو
ڈاؤن لوڈ کریں
آج پوری دنیا میں مسلمانوں پر آفات اور مصیبتیں اُمنڈ اُمنڈ کر آرہی ہیں، اگر اس کی وجہ یہ بتلائی جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ مصیبت ، بُرائیوں، بے پردگی ، اجنبی مردوں کا اجنبی عورتوں سے اختلاط اور دین میں نت نئے خرافات کے دخول کا نتیجہ ہے، یہ یہودیوں کے ناپاک منصوبے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر سے انسانی معاشروں اور قوموں میں اخلاق کی دھجیاں اڑا دی جائیں ، اور ہر جگہ اخلاق و کردار کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور مسلمانوں کو اپنے دینی مقاصد سے ہٹا کر دنیاوی غیر تہذیبی مکر و فریب میں مبتلا کرنے کی زبر دست مہم چلائی جارہی ہے، جب یہود اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر مسلمانوں کو دین اسلام سے خارج کرنا ان کے لیے بہت آسان ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام پر عمل کرنے والے صرف 5 فیصد لوگ باقی رہ گئے ہیں، باقی %95 فیصد مسلمان گمراہیت کی طرف گامزن ہیں، اور اس معاشرے کی اصلاح وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور ایسے ایسے ہلاکت خیز اشیاء مسلمانوں کے سامنے بطور نمونہ پیش کیے جا رہے ہیں کہ لوگ اس کو دیکھ کر اسلام کا جز سمجھ رہے ہیں، اور دیکھنے والا شخص غیر شعوری طور پر لازما متاثر ہورہا ہے، رفتہ رفتہ اخلاق وکردار میں تبدیلی آرہی ہے، ان میں سب سے بڑی چیز جس کو آج لوگ دین کا داخلی حصہ سمجھ بیٹھے ہیں وہ سالگرہ منانا ہے، جس کو انگریزی زبان میں Birthday کہا جاتا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو دین دار سمجھتے ہیں وہ بھی اس منحوس غیر شرعی عمل میں ملوث ہیں۔ سالگرہ (Birthday) کی حقیقت: بڑے بڑے گھرانوں اور عموماً متوسط گھرانوں میں بھی بچوں کی سالگرہ منائی جاتی ہے، رشتے داروں اور دوست و احباب کو مدعو کیا جاتا ہے، جو اپنے ساتھ بچے اور بڑوں کے لیے تحفے تحائف لے کر آتے ہیں، خواتین و حضرات بلا تمیز محرم و غیر محرم کے ساتھ ایک ہی ہال میں جمع ہو جاتے ہیں، اور ایک بڑی میز کے گرد کھڑے ہو جاتے ہیں، اور ایک بڑا سا کیک کاٹ کر ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرتے ہیں، اور پھر تالیوں کی گونج میں سالگرہ مبارک ہو یا پھر Happy Birthday To You کی آوازیں آتی ہیں، اور یہ ہر سال پیدائشی تاریخ کے اعتبار سے منایا جاتا ہے، یہ سلسلہ صرف بچپن کی حد تک محدود نہیں ؛ بلکہ بوڑھے ہو کر قبر کے حوالے ہونے تک چلتا ہے۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی دین دار سمجھتے ہیں، وہ خود اپنی سالگرہ تو نہیں مناتے ، لیکن دوسروں کی سالگرہ میں شرکت ضرور کرتے ہیں۔ اور بعض جگہ تو عیاشی میں ناچ گانے بھی ہوتے ہیں، جو سراسر گناہ اور خدا اورسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ناراض کرنے والا عمل ہے، اس سے نہ دنیا کا فائدہ ہے اور نہ دین سے کوئی وابستگی ہے، یہ فحاشی اور عریانیت کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر ہے، اگر یہ عمل شریعت محمدی میں جائز ہوتا تو سب سے پہلے آقائے نامدار جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سالگرہ منائی ہوتی، پھر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے منا ئیہوتی ، تاریخ کے اوراق کو گرداننے کے بعد دُور دُور تک بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا، اور سالگرہ منانے کی رسم انگریزوں کی ایجاد کردہ ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ. (سنن أبي داؤد: ٥٥٩/٢) (جو آدمی جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اُنھی میں سے ہوگا ) ۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ طریقہ کس کا ایجاد کردہ ہے، اگر ہم اس طریقے کو اپنائیں گے تو ہم بھی ان ہی میں سے ایک فرد قرار پائیں گے، اب ہم خود اپنی عقل سلیم سے فیصلہ کریں کہ ہماری زندگی کے اندر غیروں کے کتنے طور طریقے اور خرافات موجود ہیں، سالگرہ (Birthday) منانے کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے، یہ کوئی خوشی کا موقعہ بھی نہیں ہے؛ اس لیے کہ انسان کی جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے ویسے ویسے وہ موت کے قریب ہوتا جاتا ہے، اور اس کی زندگی میں سے ایک ایک دن کم ہوتا جاتا ہے؛ لہذا اس موقع پر خوشی منانے کا کیا مطلب ہے؟ اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کے تحفظ اور انسانی معاشرے کے قیام و بقا کے لیے انسانوں کے اندر دو جذ بے ایسے رکھے ہیں کہ اگر وہ جذبات انسان کے اندر سے ختم ہو جائیں تو انسانیت کبھی کی مٹ چکی ہوتی ، اور وہ ہیں حیا اور غیرت ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر یہ جذبات انسان کے اندر سے مضمحل ہو جائیں تو انسانیت کی بقاء مشکل ہو جائے گی ، صرف نام کے انسان باقی رہ جائیں گے اور کام تو درندوں کی طرح ہوتا رہے گا، جیسا کہ مغربی ممالک میں اس کا انجام سامنے آچکا ہے، اور اگر کسی معاشرے میں خدا نہ خواستہ یہ جذبات فنا ہو جائیں تو بدکاری، عریانی اور فحاشی کے وہ مناظر سامنے آئیں گے کہ الامان والحفیظ جس کا اندازہ آج کی مغربی دنیا کو دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں پیدا ہونے والے حرامی بچے انسان کی فطری اٹھان سے یکسر محروم ہو گئے ہیں، محبت، ایثار، قربانی اور اعتماد جیسے ناگزیر لطیف احساسات کا ان میں کوئی وجود نہیں، جیسا کہ ان کے جذبات کے بغیر سکون واطمینان کی انمول دولت انسانی معاشرہ کبھی بھی نہیں پاسکتا، اور اس حیا سوز اور اخلاق باختگی والا سالگرہ (Birthday) جیسے ہلاکت خیز تفریحات کا پہلا حملہ انسان کی انسانیت پر ہوتا ہے۔ آخری لفظ: میں ہاتھ جوڑ کر دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ ایسی بے حیائی کی محفلیں قائم کر کے اپنے ایمان کی فروختگی سے باز آجائیں ، لوگ ہماری قدر نہیں کر رہے ہیں تو نہ کریں، ہم اپنی قدر خود تو کریں، ہم اپنے کو خود پہچانیں، ہماری اصل تصویر تو شرافت، انسانیت، ہمدردی اور غمگساری کی ہے، وفا ہماری فطرت میں شامل ہے، ان تمام چیزوں کی حفاظت بھی ہماری آئین ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ ہم کو اللہ تعالی راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ( آمین ) --------------------------------------- کتاب : ماہنامہ صدائے حق بنگلور (جولائی/٢٠٢٦) از قلم : مفتی عبد الرزاق بنگلوری - انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو اپپ -
فالوورز
فالوورز
فالوورز
فالوورز
admin | 29 October, 2026