اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو
ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیدنا وہب بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے: بنی اسرائیل کا ایک عابد اپنے عبادت خانے میں عرصۂ دراز سے مصروفِ عبادت تھا، وہ مجاہدات کرتا اور ہمیشہ گناہوں سے بچتا۔ اس کی عبادت و پارسائی کو دیکھ کر شیطان کے چیلے ابلیس کے پاس آئے اور کہا: ”فلاں شخص نے ہمیں عاجز کر دیا ہے، اس سے ہمیں کچھ حصہ نہیں ملا۔“ اپنے کمینے چیلوں کی یہ بکواس سن کر ابلیسِ لعین نے اس عابد کو بہکانے کی ٹھانی اور اس کے عبادت خانے پر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ عابد نے پوچھا: ”کون ہے؟“ ابلیس بولا: ”میں مسافر ہوں، آج رات مجھے اپنے پاس پناہ دے دو۔“ عابد نے کہا: ”یہاں سے بہت ہی قریب ایک بستی ہے، تو وہاں چلا جا۔“ ابلیس نے کہا: ”خدا کا خوف کرو، میں مسافر ہوں، مجھے درندوں اور چوروں کا خطرہ ہے، اتنی رات گئے میں کہاں مارا مارا پھروں گا۔“ عابد نے کہا: ”میں ہرگز دروازہ نہیں کھولوں گا۔“ یہ سن کر ابلیس خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد پھر دستک دی اور کہا: ”جلدی سے میرے لیے دروازہ کھولو۔“ عابد نے پوچھا: ”کون ہے؟“ کہا: ”میں مسیح (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) ہوں۔“ (معاذ اللہ تعالیٰ) عابد نے کہا: ”اگر تو مسیح ہے تو پھر تجھے میری حاجت ہی کیا ہے، تو تو اپنے رب کی رسالت اور آخرت کے وعدے کو پہنچ چکا ہے۔“ ابلیسِ لعین پھر خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد پھر شیطانی طبیعت مچلی تو دروازہ کھٹکھٹایا۔ عابد نے پوچھا: ”کون ہے؟“ کہا: ”میں ابلیس ہوں۔“ عابد نے کہا: ”میں ہرگز تیرے لیے دروازہ نہیں کھولوں گا۔“ ابلیسِ لعین نے کہا: ”تجھے خدا کا واسطہ! تجھے تیرے رب کا واسطہ! دروازہ کھول دے۔“ ابلیسِ لعین کافی دیر تک منت سماجت کرتا رہا اور پختہ وعدہ کیا کہ میں تجھے کبھی بھی کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ بالآخر عابد نے دروازہ کھول دیا۔ ابلیس اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا: ”مجھ سے جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو، میں تمہیں ہر سوال کا جواب دوں گا۔“ عابد نے کہا: ”مجھے تجھ سے کوئی سروکار نہیں۔“ یہ سن کر ابلیسِ لعین واپس جانے لگا تو عابد نے اسے پکار کر کہا: ”میں تجھ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔“ ابلیسِ لعین واپس آیا اور کہا: ”پوچھو! کیا پوچھنا چاہتے ہو؟“ کہا: ”بنی آدم کی ہلاکت میں تمہارے لیے سب سے زیادہ مددگار شے کیا ہے؟“ ابلیس نے کہا: ”نشہ ہمارا سب سے کامیاب ہتھیار ہے، کیونکہ جب کوئی شخص نشے میں آ جاتا ہے تو ہم جو چاہتے ہیں اس سے کرواتے ہیں، پھر وہ ہم سے بچ نہیں سکتا، ہم اس سے اس طرح کھیلتے ہیں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔“ عابد نے کہا: ”دوسری ہلاکت خیز شے کیا ہے؟“ کہا: ”غصہ و غضب بھی ہمارے مہلک ترین ہتھیار ہیں، اگر انسان عبادت کر کے اس مقام و مرتبے کو پہنچ جائے کہ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرنے لگے، تب بھی ہم اس سے مایوس نہیں ہوتے، ہمیں امید ہوتی ہے کہ اس کے غیض و غضب کی وجہ سے ہمیں اس سے ضرور کچھ حصہ ملے گا۔“ عابد نے کہا: ”ان کے علاوہ تمہارے پاس اور کون سا مہلک ہتھیار ہے؟“ کہا: ”بخل بھی ہمارا بہترین ہتھیار ہے۔ انسان پر جو نعمتیں ہیں ہم انہیں تھوڑی کر کے دکھاتے ہیں، اور لوگوں کے پاس جو مال و دولت ہے اسے اس کی نظروں میں زیادہ کر دیتے ہیں، اس طرح وہ اپنے مال میں حقوق اللہ کی ادائیگی کے معاملے میں کنجوسی سے کام لیتا اور ہلاکت کی وادیوں میں جا گرتا ہے۔“ (الامان والحفیظ) (عیون الحکایات) منقول - ---------Islamic Tube Pro---------
فالوورز
فالوورز
فالوورز
فالوورز