تاریخ دعوت و عزیمت جلد ٤

حدیث الرسول ﷺ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَؓ أَنَّ رَسُولَ اللہ ﷺ قَالَ ‏"‏ أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ‏.‏ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا ‏"‏‏(بُخاری شریف :۶۱۰۴)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے بھی اپنے بھائی (مسلمان) کو کہا اے کافر (او کافر ) تو یہ کفر ان دونوں میں سے ایک پر لوٹا (نصر الباری/ج:۱۱)

آیۃ القران

وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (۹)(سورۃ الرحمٰن)

اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو، اور تول میں کمی نہ کرو- (آسان ترجمۃ القران)

Download Videos

علمی لطیفہ

ایک مولانا اپنا لطیفہ بیان کرتے ہیں کہ: متحدہ ہندوستان کے زمانے میں، مَیں اکثر دہلی جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ جلسہ میں گیا تو ایک دہلوی مولوی صاحب سے تعارف ہوا- دہلی والوں نے پوسٹر میں میرے نام کے ساتھ *”شیرِ پنجاب“* لکھا تھا اور ان مولوی صاحب کے نام ساتھ *”فخرِ دہلی“*... ایک مجلس میں سارے احباب بیٹھے تھے، یہ پوسٹر سامنے تھا۔ دہلوی مولوی صاحب نے مزاحاً فرمایا: مولانا! اگر شیر پنجاب سے *"ی"* اڑجائے تو باقی کیا رہ جائے گا؟ (مطلب اُن کا یہ تھا کہ شیر پنجاب سے "ی" نکال دی جائے تو باقی *"شرِ پنجاب"* رہ جاتا ہے) *میں نے عرض کیا:* اور مولانا! اگر فخرِ دہلی کے فخر سے *"ف"* اُڑجائے تو باقی کیا رہ جائے گا؟ (باقی *"خَر"* رہ جاتا ہے، خر فارسی میں *گدهے* کو کہتے ہیں). اس لطیفے سے حاضرین بہت محظوظ ہوئے- ایک صاحب جو شاعر بھی تھے، اور شاعر بھی دہلی کے؛ بڑی متانت سے بولے: قبلہ! ان حروف *"ی"* اور *"ف"* کو اڑائیے مت، اپنے استعمال میں لائیے: شیر کی *"ی"* اِن مولانا کو دے دیجئے، تاکہ یہ خر کے بیچ لگا کر *"خیر"* پا سکیں۔ اور فخر کی *"ف"* آپ لے لیجئے تاکہ شر کے آگے لگا کر *"شرف"* حاصل کر سکیں۔ *لفظوں کا برمحل استعمال بھی ایک خوب صورت ہنر ہے، یہ ہنر جاننے والا واقعی بڑا ہنر مند ہوتا ہے*

Naats

اہم مسئلہ

علامہ شامیؒ صاحب حلیہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مبارک ، اسحاق، ابراہیم اور ثوری رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مستحب یہ ہے کہ امام رکوع اور سجدہ میں تسبیحات پانچ پانچ مرتبہ پڑھے، تا کہ مقتدی حضرات تین تین مرتبہ پڑھ سکیں، لہذا اگر امام نے اس کی رعایت نہیں کی ، تو اُس کا یہ عمل مکروہ ہوگا ۔ (اہم مسائل/ج:۵/ص:۸۸)