https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/2092_2026-11-01_islamictube.jpg

”بی جے پی نے زبردستی بند کروائیں کناٹ پلیس کی دکانیں“: ریلی کے بیچ راہل گاندھی کا الزام، نڈا نے تاجروں کے نقصان پر گھیرا

دہلی کے کاروباری طبقے پر انڈیا اتحاد کی ریلی کے اثر کو لے کر اتوار کو بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ تیز ہو گیا۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے کناٹ پلیس کی دکانیں جبراً بند کروا دیں، تاکہ ریلی میں آنے والے لوگ خریداری نہ کر سکیں۔ انہوں نے رام لیلا میدان کی میگا ریلی کے دوران کھلی بس میں بیٹھ کر ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

راہل گاندھی نے کیا کہا؟

راہل نے کہا، ”ہم نے مارچ اور میگا ریلی میں آنے والے تمام لوگوں سے خریداری کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔ لیکن جب ہم کناٹ پلیس پہنچے، تو دیکھا کہ بی جے پی نے زبردستی ساری دکانیں بند کروا دی ہیں۔ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تاجروں کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے۔“ انہوں نے 31 اکتوبر کو اپیل کی تھی کہ ریلی میں جانے والے لوگ خریداری ضرور کریں، تاکہ دیوالی سے پہلے تاجروں کو فائدہ ہو۔

بی جے پی کا جوابی وار

بی جے پی صدر جے پی نڈا نے راہل کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تاجر، ریڑھی پٹری والے اور چھوٹے دکاندار دھنتیرس، دیوالی اور چھٹھ کے کاروبار پر کافی حد تک منحصر رہتے ہیں۔ انہوں نے CTI کی اس گزارش کا حوالہ دیا، جس میں سونیا گاندھی، اکھلیش یادو اور ممتا بنرجی سمیت انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے تہواروں میں دہلی میں بڑے سیاسی پروگراموں پر نظرِ ثانی کو کہا گیا تھا۔ نڈا کا دعویٰ ہے کہ پہلے کے مظاہروں سے دہلی کے تاجروں کو تقریباً 3,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا اور اس ریلی سے 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

تاجر تنظیموں کی تشویش

CTI کے چیئرمین برجیش گوئل نے خبردار کیا کہ رام لیلا میدان کے 10 کلومیٹر کے دائرے کی تقریباً 2.5 لاکھ دکانیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

ان کا اندازہ ہے کہ 20 بازاروں میں تہواروں کے دوران ہونے والے 10,000 سے 12,000 کروڑ روپے کے روزانہ کاروبار میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔

’فیڈریشن آف صدر بازار ٹریڈرز ایسوسی ایشن‘ نے بھی ریلی ٹالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے مطابق دھنتیرس سے دیوالی کے درمیان تقریباً 25,000 کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔