کہتے ہیں کہ ایک بہت بڑے سیٹھ نے ایک ایسے شخص کو نوکر رکھا۔ جو دماغ کا موٹا تھا۔ جب امیر شخص کام کاج سے فارغ ہوکر گھر آتا تو تھکاوٹ اور ٹینشن دور کرنے کے لیے اس #بیوقوف سے الٹے سیدھے سوال کرتا۔ اور وہ بیچارہ اپنی تھوڑی سی عقل کے مطابق جواب دیتا۔ جسے سن کر وہ سیٹھ ہنس ہنس کر دہرا ہوجاتا یوں اسکی سارے دن کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ایک دن اس امیر آدمی کے ذہن میں خیال آیا کیونہ اس بیوقوف کا امتحان لیا جاۓ۔۔۔ تو اس نے ایک سفید چھڑی اس بیوقوف کو دیتے ہوۓ کہا۔۔۔۔ یہ چھڑی تم اس شخص کو دوگے جو تمہیں اپنے سے بھی زیادہ بیوقوف ملے““۔۔۔ وقت گزرتا گیا۔ وہ امیر شخص شدید بیمار ہوگیا۔ ایک دن اس نے اپنے بیوقوف نوکر کو بلا کر کہا۔ ”تم مجھے معاف کردو۔ تمہیں تھوڑے سے پیسو کا لالچ دے کر۔ کچھ دیر کی خوشی حاصل کرنے کے لیےمیں تمہارے جذبات سے کھیلتا رہا۔“ نوکر کی آنکھوں میں آنسو آگۓ۔۔۔ کہنے لگا۔۔ ”مالک آپ آج ایسی باتیں کیوں کر رہے ہو؟“ اس امیر شخص نے جواب دیا۔۔۔۔۔ ”میں بہت دور جا رہا ہوں“۔۔۔۔ نوکر۔۔۔ جہاز پر جارہے ہو یا گاڑی میں؟ سیٹھ۔۔ آبدیدہ ہوکر وہاں نہ تو جہاز سے جایا جاتا ہے اور نہ ہی گاڑی سے۔ بس ملک الموت اۓ گا اورمجھے لے جاۓ گا۔۔ نوکر۔۔۔ اچھا پھر آپ نے وہاں کے لیے گاڑیاں توخریدی ہوں گی؟۔۔ سیٹھ۔۔۔ نہیں۔۔۔ نوکر۔۔۔اچھا خدمت کے لیے نوکر چاکر تو ہونگے نا۔ اور رہنے کے لیے بہت بڑا بنگلہ بھی خریدا ہوگا۔ کیا اپنے سامان پیک کروالیا۔۔۔؟ سیٹھ۔۔۔ نہیں وہاں کے لیے میرے پاس نہ تو بنگلہ ہے نہ ہی نوکر چاکر۔۔۔ اور وہاں خالی ہاتھ جاناپڑتا ہے۔۔ نوکر حیران ہوتے ہوۓ۔۔۔ پھر آپ واپس کب آٶ گے؟ سیٹھ۔۔ جو ایک مرتبہ وہاں چلا جاۓ واپس نہیں آتا۔ ہمیشہ وہیں رہتا ہے۔۔۔ وہ بیوقوف نوکرتھوڑی دیر کے لیے تو وہیں کھڑا کچھ سوچتا رہا۔ پھر اچانک واپس اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔ جب واپس ایا تو اسکے ہاتھ میں وہی سفیدچھڑی تھی۔۔ اس نے وہ سفید چھڑی اپنے مالک کو تھما دی۔۔۔ سیٹھ یہ دیکھ کر حیران ہوگیا۔ اور وجہ پوچھی تو نوکر کہنے لگا۔۔۔ مالک کافی عرصہ پہلے اپ نے یہ چھڑی مجھے دی تھی اور کہا تھا یہ اس کو دینا جو تمہیں اپنے سے زیادہ بیوقوف ملے مالک مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ بیوقوف اپ لگے ہو۔ جہاں کچھ عرصہ رہنا تھا وہاں دن رات محنت کرکے عالیشان بنگلہ بنوایا۔ خدمت کے لیے نوکر چاکر رکھے۔ گاڑیاں اکٹھی کیں۔ جہاں ہمیشہ کے لیے رہنا تھا وہاں کے لیے کچھ بھی نہیں کمایا۔۔ اب میں اپنے سے زیادہ بیوقوف انسان کے ساھ مزید نہیں رہ سکتا۔ یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک پیغام ہے ہم سب کے لیے۔۔۔ اس عارضی دنیا میں رہ کر کیا ہم سبھی دنیا کا بےجا مال و متاع اکٹھا کرنے میں تو نہیں لگ گۓ۔ یا اپنے ہمیشہ والے گھر کے لیےبھی کچھ اکٹھا کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ سوچیے گا ضرور۔۔۔ موت کا کوٸی بھروسہ نہیں کب اجاۓ۔ جو چند لمحے باقی ہیں انہیں غنیمت جانیے۔ اپنے انتہاٸی مصروف وقت میں سے کچھ وقت اپنی آخرت کی تیاری میں بھی صرف کریں۔ یہی اپکی اصل کماٸی ہوگی۔ دنیا کا مال تو دنیا میں ہی رہ جاۓ گا۔۔۔ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے۔ یہ عبرت کی جا ٕٕ ہے تماشہ نہیں ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

🥀 امت مسلمہ ارتداد کے دہانے پر __!! ( ارتداد کی طرف لے جانے کا ایک نیا حیلہ ، عجیب انکشاف)

🥀 امت مسلمہ ارتداد کے دہانے پر __!! ( ارتداد کی طرف لے جانے کا ایک نیا حیلہ ، عجیب انکشاف)

جب تک تبلیغی جماعت میں نکلنا نہیں ہوا تھا تب تک اس کام کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی بس یہ سنتے تھے کہ اللہ کے راستے میں نکلو ایمان کی اہمیت معلوم ہوگی، لوگوں کے حالات کا اندازہ ہوگا، امت دین سے کتنی دور ہے، لوگوں کو کلمہ نہیں آتا وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں سنتے تو تھے لیکن ایک کان سے سنتے تو دوسرے کان سے نکال دیتے تھے لیکن جب یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ ارتداد کے بالکل قریب آچکے ہیں تو احساس ہوا کہ واقعی اللہ نے جس ماحول میں رکھا ہے اسکا جتنا اللہ شکر کیا جائے کم ہے۔ ہماری جماعت کا ٢۱/شوال/۱٤٤٥ کو مہاراشٹر کے ایک گاؤں (سائی کھیڑا ضلع بلڈانہ) جانا ہوا وہاں کے حالات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سوائے دو چار گھروں کے پورا گاؤں ہی مسلمان ہے لیکن لوگوں کے نام مسلمانوں والے نہیں ہیں کسی کا نام سورج تو کوئی اَرجُن تو کوئی اپنا تعارف راہول سے کرواتا ہے، جب اس بات کی تحقیق کی گئی( کہ لوگ مسلمان ہوکر یہ غیروں والے نام کیوں رکھ رہے ہیں) تو کوئی بھی اسکی وضاحت کرنے کو تیار نہ تھا ہر ایک پردہ پوشی سے کام لے رہا تھا بلآخر کئی لوگوں سے بات کرنے پر پوری وضاحت سامنے آئی کہ یہاں Rss والوں کا ایک اسکول ہے جس میں scholarship کے نام پر سال میں دس ہزار روپے دیئے جاتے ہیں پانچ ہزار ۱۵ اگست کو اور پانچ ہزار ۲٦ جنوری کو اور روزانہ دو وقت کا کھانا بھی دیا جاتا ہے لیکن اس اسکول میں داخلہ اسی وقت لیا جائے گا جب اپنا مسلم نام بدل کر ہندو مذہب کے مطابق نام رکھا جائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا گاؤں مسلمانوں ہونے کے باوجود سب کے نام ہندو مذہب کے مطابق ہیں یہاں تک کہ گاؤں میں چند علمائے کرام بھی ہیں جو ان ناموں کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں بظاہر کیا نقصان ہیں بس نام ہی تو بدلا ہے حالانکہ اس میں ایک نقصان نہیں بلکہ کئی نقصانات ہیں۔ تمام لوگوں کے نام سرکاری ریکارڈ میں اسی نام سے درج ہیں جس کی وجہ سے ایک طالب علم نے اپنا ایک واقعہ بتایا کہ میں ایک مدرسہ میں داخلہ لینے گیا تو میرا داخلہ نہیں لیا گیا کیونکہ میرے آدھار کارڈ پر میرا نام ساون تھا مدرسہ والوں نے یہ سمجھا کہ یہ کوئی جاسوس نہ ہو کہ نام بدل کر آیا ہو یا پھر اس ڈر کی وجہ کہ ہندو مذہب والے کو مدرسہ میں داخلہ دینے کی وجہ سے مدرسہ کو کوئی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ دوسرا نقصان یہ کہ اب وہاں کے لوگوں کا عام معمول یہ ہوگیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا نام ہندو مذہب کے مطابق ہی رکھتے ہیں حالانکہ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں کوئی چلے یا چار مہینہ والا نہ ہو باوجود اسکے کہ اکثر لوگ جماعت میں اپنا وقت لگاۓ ہوئے ہیں لیکن ماحول یہ ہے کہ شراب بالکل عام ہے حیاء کا تو دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں اور لوگ اس قدر غفلت میں ہیں کہ کسی کو بھی انکی اس خطرناک سازش کا اندازہ نہیں۔ اور بچوں کی تعلیم کا یہ حال ہے کہ پورے گاؤں میں دو ہی مکتب چلتے ہیں وہ بھی غیر مرتّب جس میں ایک مکتب کئی مہینوں سے بند ہے۔ حالانکہ مکتب ہی ہے جس سے بچوں کے ایمان و عقائد کی حفاظت ہو سکتی ہے اب اگر اس پر بھی دھیان نہ دیا جائے تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔ اور سب سے بڑا نقصان جس کا کسی کو خیال نہیں یہ سمجھ آرہا ہے ان کی یہ محنت پچاس ساٹھ سال پہلے کی ہے، اب جب کچھ نسلیں گزرے گی تو یہ پھر آئیں گے اور پروف کے ساتھ آئیں گے اور لوگوں کے گھر گھر جاکر یہ بات بولیں گے کہ تم مسلمان ہو ہی نہیں، ہمارے پاس پروف ہے! دیکھو تمہارا نام ارجن ہے تمہارے باپ کا نام راہول ہے تمہارے دادا کا نام جیون تھا تمہارے پر دادا کا نام سورج تھا تو تم کیسے مسلمان ہوگئے ؟ یہ انکی محنت کا اصل نتیجہ ہے۔ اور اس کی ابتداء بھی ہو چکی ہے کہ اپنی آنکھوں سے کچھ گھروں میں مورتیاں بھی دیکھی لیکن وہاں کے لوگوں کا کہنا کہ وہ اصلاً مسلمان نہیں حالانکہ یہ بات مشہور ہے کے صرف تین چار گھر ہی غیر مسلموں کے ہیں اور یہ گھر ان تین چار گھروں میں نہیں آتا ۔ ( واللہ اعلم بالصواب) اب ضرورت ہے اس بات کی کہ ان لوگوں کے لئے خوب دعائیں کی جائے اور زمینی اعتبار سے یہ محنت کی جائے کہ وہاں کوئی مضبوط جماعت روانہ کی جائے جو اس گاؤں کے حالات کو بدلنے کی کوشش کرے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ لوگ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ (اللهم احفظنا) (منقول و ماخوذ) انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ . 🖊 عمران ابن محمد موسٰی بنارسی ؛