جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں جو رب کا دین منوائے اسے فاروق کہتے ہیں نگاہ انتخاب ہے وہ نبوت کی نگاہوں کا اثر ہے جو محمد پاک کی پیاری دعاؤں کا فخر ہے جو محمد پاک کی شریعت کے گواہوں کا جو محسن ہے حکومت کے ایوانوں بادشاہوں کا جو عدوِ دین تڑپائے اسے فاروق کہتے ہیں جسے مانگا خدا سے اس کے آفاقی پیغمبرنے دعائے نبی کی لاج رکھی اس مرد قلندر نے عرب کے مرد حر نے اور حقیقت کے سکندر نے جس کے حکم کو مانا ہواؤں نے سمندر نے جو خشک دریا چلوائے اسے فاروق کہتے ہیں دمِ ہجرت وہ نکلا اور للکارا پجاری کو ابوجہل ،ابو لہب ، ہر بد بخت ناری کو حلالی ہو تو روکو آج عمر کی اس سواری کو میں موتیں بانٹنے نکلا ہوں بتادو ہر بھکاری کو جو کفر کے چھکے چھڑوائے اسے فاروق کہتے ہیں میرا ایمان ہے الطاف میرا یہ عقیدہ ہے پڑھا آپ کی مدحت میں، میں نے جب قصیدہ ہے جو سن کے جھوم اٹھتا ہے خوشا اس کا نصیبا ہے جو جل جائے تو سمجھ لینا شر اس نے خریدا ہے منافق جس سے جل جائے اسے فاروق کہتے ہیں جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔۔۔۔ ✍: حافظ محمد الطاف منہاس رح

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایسی نماز اب کون پڑھے گا؟

ایسی نماز اب کون پڑھے گا؟

نقل کرتے ہیں کہ عصام بن یوسف حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں آئے اور اُن پر اعتراض کرنا چاہا۔ چنانچہ عصام نے حاتم سے کہا: ’’اے ابو عبدالرحمٰن!‘‘ (یہ حاتم کی کنیت ہے) ’’آپ نماز کس طرح ادا کرتے ہیں؟‘‘ حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’جب نماز کا وقت آتا ہے تو میں کھڑا ہوتا ہوں اور پہلے وضوِ ظاہر، پھر وضوِ باطن کرتا ہوں۔‘‘ عصام نے کہا: ’’ان دونوں وضوؤں کی کیا صورت ہے؟‘‘ حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’وضوِ ظاہر کی یہ صورت ہے کہ اعضائے وضو کو پانی سے دھوتا ہوں، اور وضوِ باطن یہ ہے کہ اعضاء کو سات چیزوں سے دھوتا ہوں: دنیا کو ترک کرتا ہوں، مخلوق کی تعریف کی خواہش، ریا، کینہ اور حسد کو دل سے دور کرتا ہوں۔‘‘ ’’پھر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں، اعضاء کو بچھاتا ہوں، کعبہ میرے پیشِ نظر ہوتا ہے، امید و بیم کی حالت میں کھڑا رہتا ہوں، اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ ’’میری دائیں جانب جنت اور بائیں جانب دوزخ ہوتی ہے، ملک الموت میرے پیچھے ہوتے ہیں، اور میں خیال کرتا ہوں کہ گویا میں اپنا قدم پلِ صراط پر رکھ رہا ہوں، اور گمان کرتا ہوں کہ یہ میری زندگی کی آخری نماز ہے۔‘‘ ’’پھر نیت کرتا ہوں، خشوع و خضوع کے ساتھ تکبیر کہتا ہوں، قرآنِ کریم کو اس کے معانی میں تدبر اور غور و فکر کے ساتھ پڑھتا ہوں، عجز و انکسار کے ساتھ رکوع کرتا ہوں، اور گریہ و زاری کے ساتھ سجدہ کرتا ہوں۔‘‘ ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید پر تشہد پڑھتا ہوں اور اخلاص کے ساتھ سلام پھیرتا ہوں۔ چالیس سال سے میری نماز اسی طرح ہے۔‘‘ یہ سن کر عصام زار و قطار رونے لگے اور کہا: ’’یہ ایسی چیز ہے کہ آپ کے علاوہ دوسرا اس پر قادر نہیں ہو سکتا۔‘‘ منقول - انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ