محقق مسئلہ

روزہ کی حالت میں قے کا حکم؟ روزہ کی حالت میں اگر خود بخو دقے ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے منہ بھر ہو یا اس سے کم، اور اگر جان بوجھ کر روزہ یاد ہونے کی حالت میں مثلاً انگلی ڈال کر قے کی تو منہ بھر کرتے کرنے کی صورت میں بالاتفاق روزہ ٹوٹ جائے گا ، اور اگر منہ بھر سے کم ہے تو اس بارے میں اختلاف ہے، حضرت امام محمد سے ظاہر الروایہ میں مروی یہ ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا ، جب کہ حضرت امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا، بعض فقہاء نے امام ابو یوسف کے قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام محمد کے قول میں احتیاط زیادہ ہے۔ (کتاب المسائل ۱۵۵/۲ - ۱۶۳)(کتاب النوازل/ج:۶/ص:۳۸۹)

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

بہشتی زیور اور تعلیم الدین کے بعض مقامات کی اصلاح: (۱) بہشتی زیور میں عشاء کے بعد چار سنتیں لکھ دی ہیں، صحیح یہ ہے کہ دو سنت ہیں اور دو نفل ۔ (۲) بہشتی زیور میں ایام بیض ۱۲، ۱۳، ۱۴ تاریخوں کو لکھ دیا ہے، صحیح ۱۳، ۱۴ ، ۱۵ ہیں۔ (۳) تعلیم الدین اور بہشتی زیور میں تیجے، چالیسویں وغیرہ کے بدعت ہونے کے ذکر میں یہ لفظ لکھا گیا ہے "ضروری سمجھ کر کرنا" اس سے شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید غیر ضروری سمجھ کر کرنا جائز ہو یہ قید واقعی تھی ، احترازی نہ تھی، حکم یہ ہے کہ خواہ کسی طرح سے کرے بدعت ہے۔ (۴) تعلیم الدین میں قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں یہ لفظ لکھا گیا ہے: ” کثرت سے چراغ جلانا “ اس میں بھی مثل مقام سوم کے سمجھنا چاہیے، حکم یہ ہے کہ ایک چراغ رکھنا بھی بدعت ہے۔ احباب سے دعا کی استدعا ہے کہ حق تعالیٰ میری خطا و عمد کو معاف فرمائے اور میری تقریرات و تحریرات کو اضلال کا سبب نہ بنائیں۔ (اشرف السوانح : ۱۳۵/۳، بوادر النوادر : ۴۲۸)

Image 1

Naats