آیۃ القران

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)(سورۃ الاعراف)
ترجمہ
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو کان لگا کر سنو، اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحمت ہو۔ (۲۰۴)(آسان ترجمۃ القران) یعنی : اس آیت نے بتادیا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اسے سننے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ البتہ تلاوت کرنے والے کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بلند آواز سے تلاوت نہ کرے جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں۔ ایسی صورت میں اگر لوگ تلاوت کی طرف دھیان نہیں دیں گے تو اس کا گناہ تلاوت کرنے والے کو ہوگا۔(آسان ترجمۃ القران)
علماء خشک کی ناقدری کا سبب
مضامین

علماء خشک کی ناقدری کا سبب

اگر کسی خیمہ پر لکھا ہو خیمۂ لیلیٰ لیکن اس میں جھانک کر دیکھا تو اندر کتا بندھا ہوا ہے تو اس خیمہ کی قدر نہ ہوگی بلکہ لوگ مذاق اُڑائیں گے۔ اسی طرح مولوی وہ ہے جو مولیٰ والا ہو اس کے خیمۂ محمل سے خوشبوئے مولیٰ ملنی چاہیے یعنی اس کی صحبت میں اللہ کی محبت کی خوشبو آنی چاہیے‘ اس کی صحبت سے اللہ کی...

دیگر کتب

مزید کتب

Latest Naats

More Naats

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں