ماہنامہ نقوش عالم (ستمبر)

ماہنامہ نقوش عالم (ستمبر)

اس کتاب کو ایک کلک کے ساتھ دریافت کریں۔ آن لائن پڑھیں یا آف لائن پڑھنے کے لیے ڈاؤن لوڈ کریں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں

عادات، اخلاق اور طرزِ عمل خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ہیں

عادات، اخلاق اور طرزِ عمل خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ہیں

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا، قابلیت پوچھی گئی، کہا کہ میں سیاسی ہوں۔ بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھیڑ رہتی تھی، اسے خاص گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج بنا لیا گیا، جو حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ چند دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا۔ اس نے کہا نسلی نہیں ہے۔ بادشاہ کو تعجب ہوا اس نے جنگل سے سائس کو بلا کر دریافت کیا، اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ہے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مر گئی تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ہے۔ مصاحب کو بلایا گیا۔ تم کو کیسے پتا چلا کہ گھوڑا نسلی نہیں ہے؟ اس نے کہا، جب یہ گھاس کھاتا ہے تو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لے کر سر اٹھا لیتا ہے۔ بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ہوا اور اس کے گھر اناج، گھی، بھنےہوئے دنبے، اور پرندوں کا اعلیٰ گوشت بطور انعام بھجوایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا۔ چند دنوں بعد بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے میں رائے مانگی۔ اس نے کہا، طور و اطوار تو ملکہ جیسے ہیں لیکن شہزادی نہیں ہے۔ بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے فوراً ساس کو بلا بھیجا۔ معاملہ اس کے گوش گزار کیا۔ ساس نے تصدیق کر دی۔ اس نے کہا کہ یہ حقیقت ہے تمہارے باپ نے میرے خاندان سے ہماری بیٹی کی پیدائش پر ہی رشتہ مانگ لیا تھا لیکن ہماری بیٹی 6 ماہ کی عمر میں ہی فوت ہو گئی تھی۔ چنانچہ ہم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنا لیا۔ بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا کہ اسے ملکہ کے شہزادی نہ ہونے کا کیسے علم ہوا تو اس نے کہا کہ ملکہ کا خادموں کے ساتھ سلوک جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ شہزادیاں ایسے سلوک نہیں کیا کرتیں۔ بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ہوا۔ ایک بار پھر سے بہت سا اناج اور بھینسیں بطور انعام دیں اور اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا۔ کچھ وقت گزرا تو مصاحب کو پھر بلا بھیجا اور اپنے بارے میں دریافت کیا۔ مصاحب نے کہا، جان کی امان کا وعدہ دیجئے۔ بادشاہ نے وعدہ کیا تو بولا، نہ تم بادشاہ زادے ہو اور نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ہے، بادشاہ تاؤ آیا مگر جان کی امان دے چکا تھا۔ سیدھا والدہ کے محل پہنچا، والدہ نے کہا سچ ہے۔ تم ایک چرواہے کے بیٹے ہو۔ ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا تھا۔ بادشاہ نے مصاحب کو بلایا اور پوچھا کہ اسے کیسے معلوم ہوا۔ اس نے کہا بادشاہ جب کسی کو انعام و اکرام دیا کرتے ہیں تو ہیرے، موتی اور جواہرات کی شکل میں دیتے ہیں لیکن آپ بھینس، بکریاں اور دیگر کھانے کی چیزیں عنایت کرتے ہیں۔ یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں ہوتا، بلکہ کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ہو سکتا ہے۔ ---------Islamic Tube Pro--------- کتاب : کامیاب طالب علم کی ۷۵ اچھی عادتیں۔ صفحہ نمبر: ۴-۵ - مصنف : مولانا مفتی منیر احمد صاحب- انتخاب : اِسلامک ٹیوب پرو ایپ -