https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/4585_2026-04-08_islamictube.webp

منی پور میں دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا، سی آر پی ایف فائرنگ سے ہلاکتیں تین تک پہنچ گئیں، انٹرنیٹ سروسز میں جزوی بحالی

بھارتی ریاست منی پور ایک بار پھر پرتشدد واقعات کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جس کے باعث حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے دوران مرکزی ریزرو پولیس فورس (CRPF) کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے، جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ بدھ کے روز ایک زخمی نوجوان، 31 سالہ وانگھینگبم بوبی، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ وہ ضلع بشنوپور کے علاقے کمبی تیراکھونگ مکھا لیکائی کا رہائشی تھا۔ اس سے قبل منگل کو دو افراد ہلاک ہو چکے تھے، جس کے بعد مجموعی تعداد تین ہو گئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بوبی کو جسم کے اوپری حصے میں گولی لگی تھی اور اس کی حالت تشویشناک تھی۔ اسے امپھال کے ریجنل انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (RIMS) میں زیر علاج رکھا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ تازہ تشدد منگل کے روز اس وقت بھڑکا جب مبینہ طور پر کوکی شدت پسندوں نے ایک حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک راکٹ سے داغا گیا گولہ موئیرانگ ترونگلاوبی مکھا لیکائی کے ایک مکان پر آ گرا، جس کے نتیجے میں دو معصوم بچوں کی دردناک موت واقع ہوئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک پانچ سالہ بچہ اور اس کی چھ ماہ کی بہن شامل تھے۔ بچوں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل افراد نے اس واقعے کو سفاکانہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے بعد مشتعل ہجوم نے ضلع چوراچاندپور کے جیل مول علاقے میں واقع سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کر دیا۔ ہجوم نے کیمپ میں توڑ پھوڑ کی اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ حالات بے قابو ہونے پر سیکیورٹی فورسز کو فائرنگ کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے تین جانبر نہ ہو سکے۔ دوسری جانب سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتار افراد کا حملے سے براہِ راست تعلق ہے یا نہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں واقعے کی مکمل چھان بین میں مصروف ہیں۔ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ریاستی حکومت نے انٹرنیٹ سروسز میں جزوی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ براڈبینڈ سروسز، جیسے آئی ایل ایل اور ایف ٹی ٹی ایچ کنکشنز کو مخصوص شرائط کے ساتھ بحال کیا گیا ہے تاکہ عدالتوں، صحت، تعلیم اور دیگر ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔ تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں سروسز دوبارہ معطل کی جا سکتی ہیں۔ فی الحال حکام کے مطابق حالات کشیدہ ضرور ہیں، مگر قابو میں ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز پورے علاقے میں چوکس ہیں۔