شیخ الاسلام حضرت مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ کی اہل علم کو نصیحت میں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے اور ملک ملک پھرا ہوں ہر ملک اور ہر طبقہ کی اردو عربی ' فارسی اور انگلش کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں ۔ اصلاح نفس اور اصلاح ظاہر و باطن سے متعلق حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے مواعظ سے بڑھ کر میں نے کوئی کتاب نہیں دیکھی ۔ اپنی حد سے زیادہ مصروفیات کے باوجود میں ہر روز سونے سے پہلے ان کا تقریبا پانچ منٹ ضرور مطالعہ کرتا ہوں ۔ بعض اوقات دل ان میں ایسا لگتا ہے کہ مختصر سا دورانیہ آدھے گھنٹے تک بھی چلا جا تا ہے ۔ حضرت کا کوئی نہ کوئی وعظ ہمیشہ میرے سرہانے رکھا رہتا ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں انکی افادیت تمہارے دل و دماغ میں کس طرح اتاروں ؟ بس ! میں آپ سے دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ میں سے ہر طالب علم حضرت رحمہ اللہ کے مواعظ و خطبات کو اپنے روزانہ کے معمولات میں شامل کر لے ممکن ہے کہ ابتدا میں آپ کا دل ان میں نہ لگے لیکن آپ جوں جوں آگے بڑھتے جائیں گے ان شاء اللہ دل ان میں کھینچتا چلا جائے گا اور ایک ہی مجلس میں آپ انہیں ختم کرنا چاہیں گے ۔ ( لطائف اشرفیہ )

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​عبرت و بصائر

​​عبرت و بصائر

❶ ایک زاہد کا قصہ منقول ہے کہ وہ روٹی کے بغیر سبزی اور نمک وغیرہ کھالیتے ـ کسی نے کہا کہ بس آپ اسی پر گزارہ کرتے ہیں؟ فرمانے لگے میں اپنی دنیا جنت کے لئے بنا رہا ہوں اور تو اسے بیت الخلا کے لئے بناتا ہے، یعنی تو مرغوب کھانے کھا کر بیت الخلا تک پہنچاتا ہے اور میں جو کچھ بھی کھاتا ہوں وہ اس لئے کہ عبادت و طاعت کے لئے سہارا بنے اور آخرکار جنت تک پہنچ سکوں ـ ❷ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ حمام میں جانے لگے تو حمام والے نے روک دیا اور کہنے لگا کہ اجرت کے بغیر نہیں جاسکتے ـ آپ رو کر کہنے لگے اے اللہ! شیاطین اور فساق لوگوں کے آنے کا مقام ہے اور مجھے یہاں مفت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی تو میں انبیاء اور صدیقین کے مقام یعنی جنت میں کیسے داخل ہوسکوں گاـ؟ ❸ منقول ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام کی آسمانی تعلیمات اور وحی میں یہ بات ملتی ہے کہ اے ابن آدم! تو دوزخ کو بھاری قیمت سے خریدتا ہے مگر جنت کو سستے داموں نہیں لیتا ـ جس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک فاسق آدمی اپنے جیسے فاسقوں کی دعوت کرتا ہے اور اس پر سینکڑوں روپے کا خرچ بھی معمولی سمجھتا ہے تو یہ اس کا دوزخ کا سودا ہے جو بھاری قیمت پر حاصل کیا ـ اگر وہ اللہ کی رضا کے لئے ایک درہم خرچ کرکے بعض محتاجوں کی دعوت کرنا چاہے تو اسے شاق گزرتا ہے، جب کہ یہی اس کے لئے جنت کی قیمت تھی ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تنبیہ الغافلین (صفحہ نمبر ۸۸-۸۹ ) مصنف : نضر بن محمد ابراہیم ابوالیث السمرقندی منتخب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ