جنت کی پہلی صبح کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ جب آپ اپنے محل کی اونچائی پر کھڑے ہو کر جنت کے خزانوں اور اسکی نہروں کو دیکھ رہے ہونگے ! آپکے آسمان اور زمین تبدیل ہو چکے ہونگے ! دودھ شہد شراب اور انتہائی سفید پانی کی نہریں ! سونے اور چاندی کے محلات ! تاحدنگاہ موتیوں کی سر زمین ! کستوری کے ٹیلے ! ھر طرف عمدہ خوشبوئیں ! گھنے درخت اور انکی سونے کی ٹہنیاں اور تنے ! مختلف رنگ و اشکال کے پھل ! نوکر چاکر, عظیم سلطنت ,بلند مقام ! خوبصورت آنکھوں والی حور و غلمان ! آپ کو یہ پروانہ دے دیا گیا ہے کہ اب آپ ہمیشہ جوان رہیں گے کبھی بھی بوڑھے نہیں ہوں گے ! ہمیشہ تندرست رہیں گے کبھی بیمار نہ ہوں گے! ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی موت نہ آئے گی! ہمیشہ خوشیوں میں رہیں گے کبھی غم نہ دیکھیں گے! اپنے اھل و عیال میں سے جسے آپ کھو چکے ہیں , اللہ تعالی آپ سب کو وہاں اکٹھے کرے گا ! ایسی جنت کہ جسے آج تک کسی آنکھ نے نہیں دیکھا کسی کان نے نہیں سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر اسکا خیال گذرا ہے ! صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملاقات ہو گی! اور سب سے بڑھ کر اللہ رب العزت کی زیارت ہو گی! ذرا سوچئے : کیا یہ سب نعمتیں اس بات کی مستحق نہیں کہ اس چھوٹی سی زندگی میں اللہ رب العزت کے احکامات کو پورا کیا جائے ؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مبارک طریقوں کو اپنایا جائے ؟ اور گناہوں سے دور رھا جائے ؟ اور عمل میں اخلاص پیدا کیا جائے ؟ یا اللہ ہمیں،آپکو اور جن سے ہم محبت کرتے ہیں , ھمارے والدین, بھائیوں اور بہنوں کو فردوس اعلی میں بغیر حساب اور عذاب کے جمع کرنا (آمین یا رب العالمین )

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

شیشے سے دیوار تک

شیشے سے دیوار تک

ایک خاتون کہتی ہیں: ایک دن میں اپنے گھر کی صفائی کر رہی تھی، اتنے میں میرا بیٹا آیا اور شیشے سے ایک شاہکار (تحفہ) گرا دیا اور وہ ٹوٹ گیا۔ میں اس سے بہت ناراض تھی کیونکہ یہ بہت مہنگا تھا، میری ماں نے مجھے دیا تھا، میں اسے پسند کرتی تھی اور اسے رکھنا چاہتی تھی۔ میں نے غصے سے اسے بلایا اور کہا۔ (میرا رب ایسی دیوار گرائے جو تمہاری ہڈیاں توڑ دے) وہ خاتون کہتی ہیں: سال گزر گئے، میں اس پکار اس بدعا کو بھول گئی، مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی اور نہ ہی مجھے معلوم تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ گئی ہے! میرا بیٹا اپنے بھائیوں بہنوں کے ساتھ پلا بڑھا اور وہ میرے دل میں میرے بیٹوں میں سب سے زیادہ پیارا تھا۔ میں اس کو ہوا لگنے سے بھی ڈرتی تھی وہ میرے لیے اپنے بھائیوں اور بہنوں سے زیادہ نیک تھا۔ اس نے تعلیم حاصل کی، گریجویشن کیا، ملازمت حاصل کی، اور میں اس کے لیے بیوی تلاش کر رہی تھی۔ اس کے والد کی ایک پرانی عمارت تھی، اور وہ اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ میرا بیٹا اپنے والد کے ساتھ عمارت کی طرف گیا، مزدور منہدم کرنے کی تیاری کر رہے تھے، ادھر اپنے کام کے درمیان میرا بیٹا اپنے والد سے دور چلا گیا اور کارکن نے اسے نوٹس نہیں کیا تو دیوار اس پر گر گئی!! میرا بیٹا چیخا اور پھر اس کی آواز غائب ہوگئی۔ کارکن رک گئے اور سب پریشان اور خوف زدہ ہو گئے!! انہوں نے بڑی مشکل سے اس سے دیوار ہٹائی، ایمبولینس آئی، اس کا جسم لے جانے کے قابل بھی نہیں بچا تھا وہ شیشے کی طرح گر کر ٹوٹ چکا تھا، انہوں نے اسے بڑی مشکل سے اٹھایا اور انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا!! اور جب اس کے والد نے مجھے خبرکی تو میں بے ہوش ہو گئی اور جب مجھے ہوش آیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کے سامنے وہ گھڑی بحال کر دی ہو جس میں میں نے بچپن میں کئی سال پہلے اس کے لیے بددعا کی تھی اور مجھے وہ بددعا یاد آ گئی۔ میں روتی رہی اور روتی رہی یہاں تک کہ میں دوبارہ ہوش کھو بیٹھی، جب ہسپتال میں مجھے افاقہ ہوا، تو میں نے اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے کہا؟ میں نے اسے دیکھا، اور کاش میں نے اسے اس حالت میں نہ دیکھا ہوتا! ان لمحوں میں دل کی دھڑکن رک گئی اور میرے بیٹے نے آخری سانس لی۔ میں نے روتے ہوئے کہا: کاش وہ دوبارہ زندہ ہو جائے، گھر کے تمام فن پاروں کو توڑ دے، بس میں اسے نہ کھووں۔ کاش میں گونگی ہوجاتی اور اس کو بد دعا نہ دیتی۔ کاش کاش کاش، لیکن کاش لفظ کا وقت پورا ہو چکا تھا! ایک شخص عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے پاس اپنے بیٹے کی نافرمانی کی شکایت کرنے آیا!! ابن مبارک نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس کے لیے بددعا کی؟ اس نے کہا: ہاں اس نے کہا: جاؤ، تم نے ہی اسے خراب کر دیا ہے۔ _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔