*ایک شیر کی خنزیر سے ملاقات ہوئی۔* 🐖خنزیر نے کہا: "مجھ سے لڑو!" شیر نے جواب دیا: "تم ایک خنزیر ہو اور میرے لائق نہیں ہو۔ اگر میں تمہاری بات مان کر تمہیں قتل کر دوں، تو کہا جائے گا کہ شیر نے خنزیر کو قتل کیا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے، اور اگر مجھ سے کوئی نقصان پہنچا تو یہ میرے لئے عار ہوگا!" خنزیر نے کہا: "اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو میں جا کر درندوں کو بتاؤں گا کہ تم نے مجھ سے لڑنے کی ہمت نہیں کی!" شیر نے کہا: "تمہارا جھوٹ برداشت کرنا میرے لئے آسان ہے بجائے اس کے کہ میں اپنی داڑھی کو تمہارے خون سے رنگ دوں!" 🤔 بعض لوگ اس قابل نہیں ہوتے کہ ان سے دشمنی کی جائے! 🤔 کچھ لڑائیاں ایسی ہیں جن کو جیتنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان میں نہ اترا جائے۔ 🤔جب آپ نیچ لوگوں سے ان کے طریقے سے لڑتے ہیں تو آپ ان کے ساتھ برابر ہو جاتے ہیں!

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علّامہ اِقبال اور جذبہ اطاعت رسول

علّامہ اِقبال اور جذبہ اطاعت رسول

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے سنت رسول کی پیروی کو اپنا شیوہ حیات بنالیا تھا۔ جوہر اقبال میں ایک عجیب اور بصیرت افروز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جس سے علامہ اقبال کے جذبہ شوق و اطاعت رسول کا اندازہ ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ پنجاب کے ایک دولت مند رئیس نے ایک قانونی مشورے کے لیے اقبال اور سر فضل حسین اور ایک دو مشہور قانون دان اصحاب کو اپنے ہاں بلایا، اور اپنی شاندار کوٹھی میں ان کے قیام کا انتظام کیا۔ رات کو جس وقت اقبال اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے گئے تو ہر طرف عیش و تنعم کے سامان دیکھ کر، اور اپنے نیچے نہایت نرم اور قیمتی بستر پا کر معا ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ جس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے حاصل ہوئے ہیں، اس نے بوریے پر سوکر زندگی گزار دی تھی ۔ یہ خیال آنا تھا کہ آنسوؤں کی جھڑی بندھ گئی۔ اسی بستر پر لیٹنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ اٹھے اور برابر کے غسل خانے میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گئے، اور مسلسل رونا شروع کر دیا۔ جب ذرا دل کو قرار آیا تو اپنے ملازم کو بلوا کر اپنا بستر کھلوایا ، اور ایک چار پائی اسی غسل خانے میں بچھوائی۔ اور جب تک وہاں مقیم رہے، غسل خانے ہی میں سوتے رہے۔ یہ وفات سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے۔ (محمد حسنین سید۔ جوہر اقبال - ص 39-40، مطبوعہ مکتبہ جامعہ دہلی 1938)(ماہنامہ صدائے اسلام/ستمبر/۲۰۲۴)