"عربی ادب سے" لیڈر بھیڑیے نے جب اپنے نوجوان بھیڑیوں(wolves) کو زندگی کا سبق اور جینے کا ہنر سکھانا چاہا تو وہ انھیں لے کر بھیڑوں (sheeps) کے ریوڑ کے پاس گیا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا: "ان بھیڑوں کا گوشت لذیذ ہوتا ہے" اس کے بعد اس نے دور کھڑے چرواہے کیطرف اشارہ سے خبردار کرتے ہوئے کہا؛ "اس آدمی کی لاٹھی کی ضرب تکلیف دہ ہوتی ہے، اس لیے سنبھل کر احتیاط سے شکار کرنا" اور جب ان جوان بھیڑیوں (wolves) نے ان بھیڑوں (sheeps) کے ریوڑ کے پاس ایک کتا کھڑا دیکھا تو انہوں نے لیڈر سے کہا: "یہ تو دیکھنے میں ہوبہو ہماری طرح لگ رہا ہے" لیڈر نے یہ سن کر انھیں نہایت پُر اثر جواب دیا کہ: "جیسے ہی اس کتے کا وجود نظر آجائے تو وہاں سے فوراً فرار ہو جاؤ ! کیونکہ ہم نے اپنی زندگی میں اب تک جو کچھ درد بھی سہا ہے وہ ان لوگوں کی وجہ سے سہا ہے جو ہم جیسے نظر تو آتے ہیں مگر وہ ذرہ برابر بھی ہمارے بنتے نہیں ہیں...!!!" منقول

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہارون رشیدؒ کے زمانے میں پورے عالم اسلام کے قاضی القضاۃ تھے، ایک بار ان کے پاس خلیفہ ہارون رشیدؒ اور ایک نصرانی کا مقدمہ آیا، امام نے فیصلہ نصرانی کے حق میں کیا، اس طرح کے درخشاں واقعات تاریخ اسلام کے ورک ورک پر بکھرے پڑے ہیں، لوگ اس کو "دور ملوکیت" کہتے ہیں وہ کس قدر مبارک "دور ملوکیت" تھا ایک طاقتور بادشاہ اور خلیفہ اپنی رعایا میں سے ایک غیر مسلم کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں فریق بن کر حاضر ہیں، امام ابو یوسفؒ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو فرمانے لگے : اے اللہ ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے زمانئہ قضا میں مقدمات کے فیصلے میں کسی بھی فریق کی جانب داری نہیں کی، حتیٰ کہ دل میں کسی ایک فریق کی طرف میلان بھی نہیں ہوا، سوائے نصرانی اور ہارون رشیدؒ کے مقدمے کے کہ اس میں دل کا رجحان اور تمنا یہ تھی کہ حق ہارون رشیدؒ کے ساتھ ہو اور فیصلہ حق کے مطابق اسی کے حق میں ہو لیکن فیصلہ دلائل سننے کے بعد ہارون رشیدؒ کے خلاف کیا"ـ یہ فرماکر امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ رونے لگے اور اس قدر روئے کہ دل بھر بھر آیا ـ ( الدر المختار : ج ۳۱۳،والقضاء فی الاسلام لعارف النکدی ص ۲۰) ـــــــــــــــــــــــــــ📝📝ـــــــــــــــــــــــــــ ( کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں صفحہ نمبر : ۵۷ مصنف : ابن الحسن عباسی انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ )