اس تصویر کی دونوں حصوں میں شادی کے عمل اور معاشرتی توقعات کو بہت منفرد اور معنی خیز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پہلی تصویر میں ایک دلہن دکھائی گئی ہے، جو شادی کے سامان سے لدے ہوئے ٹھیلے کو کھینچ رہی ہے، جبکہ دلہا اونچے طرز کا لباس پہنے اس پر بیٹھا ہوا ہے۔ یہ منظر ہمارے معاشرے میں جہیز کی رسم اور شادی کی غیر ضروری توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔ دلہن کو جہیز کی بھاری ذمہ داری دی جاتی ہے، اور یہ دکھایا گیا ہے کہ وہ اپنے کندھوں پر یہ بوجھ اٹھاتی ہے، گویا یہ سماجی رسم اس پر مسلط کی گئی ہے۔ دوسری تصویر میں، ایک دلہن نے دلہے کے ہاتھوں میں زنجیریں باندھ رکھی ہیں، اور دلہا ایک تختی پہنے ہوئے ہے جس پر لکھا ہے کہ اس کی تنخواہ 1 لاکھ 50 ہزار ہے۔ دلہن کی تختی پر لکھا ہے "پرفیکٹ دولہا"۔ یہ منظر معاشرتی توقعات اور شادی کے انتخاب میں مالی حالت کو اہمیت دینے کا طنز کرتا ہے۔ یہاں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک "کامل دولہا" وہی ہوتا ہے جس کی تنخواہ زیادہ ہو، جیسے شادی کو ایک مالی سودے کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان دونوں تصویروں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی رویے اور روایات شادی جیسے مقدس بندھن کو بوجھ بنا دیتے ہیں، چاہے وہ جہیز کی صورت میں ہو یا دولہے کی مالی حیثیت کی بنیاد پر۔ یہ مناظر اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شادی کے مقدس رشتے کو سادگی اور محبت کے بجائے دولت اور سماجی توقعات سے مشروط کر دیا گیا ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

_جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں ، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے

_جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں ، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے

قارون نہیں جانتا تھا کہ ہمارے جیب میں موجود اے ٹی ایم کارڈ اس کی چابیوں کی جگہ لے لیتا ہے، اسکی چابیاں مضبوط مرد بھی نہیں اٹھا سکتے تھے...!! کسرٰی فارس نہیں جانتا تھا کہ ہمارے ڈرائنگ روم کی کنبی اس کے تخت سے زیادہ آرام دہ ہے...!! قیصر، جس کے غلام اس کے سر کے اوپر شترمرغ کے پروں سے ہوا کرتے تھے، اس نے کبھی ہمارے گھروں میں موجود ایئر کنڈیشنر نہیں دیکھے...!! ہرقُل، جو فخریہ پانی کی قنینی سے پانی پیتا تھا اور جس کے ارد گرد لوگ اس کی ٹھنڈک پر حسد کرتے تھےاس نے کبھی ہمارے گھروں میں موجود واٹر کولر سے پانی نہیں پیا...!! خلیفہ المنصور، جس کے غلام گرم اور ٹھنڈے پانی کو ملاتے تھے تاکہ وہ فخر سے غسل کر سکے، اس نے کبھی جاکوزی میں غسل نہیں کیا...!! حج کا سفر جو اونٹوں کی پیٹھ پر مہینوں لیتا تھا، ہمارے لیے ہوائی جہازوں میں چند گھنٹوں کا سفر ہے...!! ہم ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جسے بادشاہوں نے کبھی نہیں گزاری، بلکہ خواب میں بھی نہیں دیکھی، اور پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی قسمت کو روتے ہیں۔ جب آپ کی آنکھیں وسیع ہو جاتی ہیں، تو آپ کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ الحمد لله کہہ دیں وہ الله ہمارے لیے کافی ہے۔ منقول۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔