*🌻سبق آموز مزاح* ایک وکیل نے رمضان کے دنوں میں عطا الله شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ سے مذاق کرتے ہوۓ پوچھا کہ حضرت ، علماء تعبیر و تاولیل میں بڑے ماہر ہوتے ہیں کوئی ایسا نسخہ بتائیں کہ انسان کھاتا پیتا رہے اور روزہ بھی نہ ٹوٹے ۔ حضرت نے فرمایا یہ تو بہت آسان ہے! ایک شخص کو مقرر کردو جو تمہیں صبح سے شام تک جوتے مارتا رہے اور تم جوتے کھاتے رہو اور غصے کو پیتے جاؤ اس طرح کھاتے پیتے رہو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ یہ ایک *دلچسپ* اور سبق آموز واقعہ ہے جو حضرت عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی حاضر جوابی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ایک وکیل نے مذاق میں روزہ نہ ٹوٹنے کا نسخہ پوچھا، تو شاہ جی نے جوتے مارنے اور غصہ پینے کا طنزیہ مشورہ دیا، جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ گناہوں اور برے اعمال سے بچنے کا نام ہے۔ جوتے کھاتے رہو: یعنی اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کے لیے تکلیف اٹھاؤ۔ غصہ پیتے جاؤ: غصے پر قابو پانا روزہ دار کے لیے ایک بڑی نیکی ہے۔ یہ واقعہ رمضان کی حقیقی *روح* کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ نفس پر قابو پانے کا نام ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دنیا کے لیئے بد صورت ترین مگر اپنے وقت کے بہترین کردار

دنیا کے لیئے بد صورت ترین مگر اپنے وقت کے بہترین کردار

لیزی کو دنیا کی بدصورت ترین خاتون کہا گیا اس پر لاکھوں میم بنائے گئے اس کو یہاں تک کہا گیا کہ اتنی بدصورتی کے ساتھ جینے سے اچھا مر جاؤ مگر اس نے ہمت نہ ہاری اور گریجویشن کے بعد تین کتابیں لکھ کر لاکھوں حسن والوں کے منہ بند کر ڈالے اور پھر وہ دنیا کی بہترین موٹیویشنل سپیکر میں سے ایک بن گئی اور مایوس افراد کو جینے کا ڈھنگ سکھانے والی بن گئی اسی طرح عالمِ اسلام کی مشہور شخصیت جاحظ بھی تھے جاحظ اعتقاداً معتزلی تھا اور انتہائی بد صورت تھا مگر انتہائی ذہین جتنا بد صورت تھا اتنا ہی عظیم عالم تھا جاحظ کی بد صورتی کے بارے کہا گیا الجاحظ يقول الشاعر لو يمسخ الخنزير مسخا ثانيا ... ما كان إلا دون قبح الجاحظ اگر خنزیر کو دوبارہ مسخ کیا جائے تو پھر بھی وہ جاحظ سے کم بد صورت ہوگا کسی نے جاحظ سے پوچھا آپ کبھی شرمندہ ہوئے؟ کہا ہاں ایک بار کوئی بوڑھی عورت میرے پاس آئی اور کہا مجھے آپ سے کچھ کام ہے میرے ساتھ آئیں میں چلا گیا وہ مجھے ایک سنار کے پاس لے گئی اور سنار کے سامنے مجھے کھڑا کر کے چلی گئی میں نے سنار سے پوچھا میرے لائق کوئی حکم؟ کہنے لگا یہ بوڑھی عورت مجھ سے تقاضا کر رہی تھی میں اسکو شیطان کی مورتی بنا کر دوں میں نے کہا شیطان کو دیکھا نہیں میں نے تو وہ کہتی میں لاتی ہوں تم ویسی مورتی بنا دینا پھر وہ آپ کو ساتھ لے آئی اور کہا ایسا ہوتا ہے شیطان!!! اس سب کے باجود جاحظ علم کا پہاڑ تھا علوم اسلامیہ میں جہاں بھی بلاغت کا ذکر آتا ہے جاحظ ایک ستون کی طرح نظر آتا ہے مگر اس نے اپنی بد صورتی کو حصول علم اور بڑا انسان بننے میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیا دو مثالیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں ایک لیزی کی دوسری جاحظ کی کہ اتنے بد صورت کوئی ان کے پاس نہ بیٹھے نہ اپنے پاس ان کو بیٹھنے دے مگر انہوں نے ایسا کمال کیا کہ لوگ ان سے ملنے کے محتاج ہوگئے آپ میں کیا کمی ہے؟ آپ کیوں احساس کمتری کے شکار ہیں؟ آپ کیوں مایوس ہیں؟ ہمت کریں حوصلہ کریں اور دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں اور یوں کہا کریں ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں ۔