عرب میں ایک عورت تھی اس کا نام اُم جعفر تھا۔ انتہائی سخی تھی۔ لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی کہ دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے۔ کچھ دنوں سے وہ ایک راستے سے گزرنے لگی۔ اس راستے پر دو اندھے بیٹھے ہوتے۔ یہ دونوں صدائیں لگاتے۔ ایک کی صدا ہوتی۔ الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے روزی عطا کر۔ دوسرا اندھا کہتا۔ یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر۔ ام جعفر ان دونوں کی صدائیں سنتی اور دونوں کو عطا کرتی۔ جو شخص الله کا فضل طلب کر رہا تھا، اسے دو درہم دیتی جبکہ (ام جعفر) کے فضل کے طلبگار کو ایک بھنی ہوئی مرغی عطا کرتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسے مرغی ملتی، وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو دو درہم میں بیچ دیتا۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن ام جعفر اس اندھے کے پاس آئی جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا اور اس سے سوال کرتا تھا اور اس سے سوال کیا۔ کیا تمہیں سو دینار ملے ہیں؟ اندھا حیران ہو گیا۔ اس نے کہا۔ نہیں! مجھے صرف ایک بھنی ہوئی مرغی ملتی تھی جو میں دو درہم میں بیچ دیتا تھا۔ ام جعفر نے کہا۔ جو الله کا فضل طلب کر رہا تھا، میں اسے دو درہم دیتی اور تمہیں بھنی ہوئی مرغی میں دس دینار ڈال کر دیتی رہی۔ اندھے نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ چیخنے اور چلانے لگا۔ ہائے میری کمبختی، کاش میں ایسا نہ کرتا۔ میں مارا گیا۔ ام جعفر نے کہا۔ یقینا اللہ کا فضل طلب کرنے والا کامیاب ہے اور انسانوں کے فضل کا طلبگار محروم ہے۔ منقول

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

فیک لائف کا فتنہ

فیک لائف کا فتنہ

انسان کے اخلاقی وجود کو جو خطرناک بیماریاں لاحق ہیں ان میں جھوٹ اور مبالغے پر مبنی زندگی گزار نے کافتنہ آج کل کے دور میں سر فہرست ہے۔ ایک وقت تھا کہ انسان کی زندگی کے نجی پہلو پوشیدہ رہتے تھے مگر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے دور میں اب کوئی چیز پرائیویٹ رہی ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی فیلمی لائف، کام کاروبار ، سوشل انٹرایکشن، دولت و سرمایہ وغیرہ سب ہی کی نمود و نمائش اب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہو رہی ہے۔ آج میں نے کیا کھایا، کیا پہنا، کس سے ملاقات کی اور کن اہم لوگوں اور طاقتور حلقوں تک میری رسائی ہے، یہ سب کچھ اب سوشل میڈیا پر نشر ہوتا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جعلی یعنی فیک لائف کا فتنہ اس وقت ہمارے معاشرے میں عروج پر ہے۔ فیک لائف کا مطلب یہ ہے کہ انسان بظاہر ایسا دکھائی دینے اور بننے کی کوشش کرے جو وہ دراصل ہے نہیں۔ اگر انسان کے پاس معمولی درجے کا علم ہو مگر وہ تکلف سے کتابوں سے جزئیات تلاش کر کے دوسروں کے سامنے اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرے۔ بہت زیادہ مال و دولت نہیں ہے تو انسان دکھلاوا کر کے فیک انداز میں خود کو امیر کبیر ظاہر کرے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس اثر و رسوخ والا عہدہ و حیثیت نہ بھی ہو تو وہ جھوٹ بول کر دوسروں کو یہ تاثر دے کہ میں بہت طاقتور اور پہنچ والا ہوں سوشل میڈیا کی فیک لائف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان مشہور شخصیات سے ملاقات کی تصویریں شیئر کر کے اپنے حلقہ احباب میں شیخیاں بگھارے کہ میرے تو بہت اوپر تک تعلقات ہیں۔ کپڑے، جیولری وغیرہ بھی دوسروں سے مستعار لے کر یا فیک پہن کر ایک ایسا ماحول بنائے کہ دوسرے مرعوب ہو جائیں سوشل میڈیا کے دور میں یہ چلن اور بیماری ہمارے ہاں عام ہو گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کیا ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ - کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیخی بگھارنا نہایت برا کام ہے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی "جواظ " یعنی متکبر انداز میں شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں فرماتے کسی زمانے میں جھوٹ پر مبنی ڈینگیں مارنے اور شیخی بگھارنے والے کو معاشرے میں ذلیل اور کم تر سمجھا جاتا تھا مگر سوشل میڈیا کے دور میں یہ کام ایک دھندے اور صنعت کا روپ دھار چکا ہے۔ فیک لائف اس انداز فکر کا عملی نمونہ ہے۔ اللہ کے بندے اور بندیاں اپنی زندگی کو سچ اور قول سدید کے گرد استوار کرتے ہیں۔ عزت جھوٹ بول کر اپنا رعب اور دبدبہ قائم کرنے میں نہیں ہے بلکہ سچ بول کر پرسکون ہونے میں ہے۔ فیک لائف کے سہارے جینے والے کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا ہے کہ کب میرا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کس کو میں نے کیا کہانی سنا کر اپنا مطلب نکالا تھا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا شخص کچھ عرصے بعد جھوٹا اور فراڈی مشہور ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے پیچھے اس کے بارے میں اور اس کے فیک لائف اسٹائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بسا اوقات تو فیک لائف اختیار کرنے والا شخص دنیا میں ہی بدنامی اور رسوائی کا سامنا کرتا ہے کہ جن لوگوں کو اس نے جھوٹے بھرم کی بنیاد پر گمراہ کیا ہوتا ہے وہ اپنے نقصان کی تلافی کے لیے انتقامی کارروائیوں سے بھی باز نہیں آتے۔ سوشل میڈیا کے استعمال اور اس کے ہماری حقیقی زندگی پر اثرات کے بارے میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ انسان بہت کمزور ہے اور اسے سمجھ ہی نہیں آتی اور وہ فیک لائف کے فتنے کا شکار ہو کر اس کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ انسان رجوع الی اللہ کرے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اسے رسوا کرے خود ہی سچ اور حقیقت پر مبنی زندگی کو اختیار کرلے۔ یقینا اللہ بہت کریم اور معاف کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعا کریں کہ اللہ ہم سب کو شرمندگی، رسوائی سے بچائے اور ہمارے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے۔ (ماہنامہ سلوک و احسان کراچی اکتوبر۔ ص: ۴۷ - ۴۸ ۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)