حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اپنے پاس (درس کے وقت) تقریباً تین آدمیوں سے زیادہ نہ بیٹھنے دیتے تھے ، پس آپ نے ایک روز درس شروع کیا تو دیکھا کہ حلقہ بہت بڑا ہو گیا ، آپ یہ دیکھ کر گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ہم بے خبری میں پکڑ لیے گئے ، (مطلب یہ تھا کہ ہم گناہ کر رہے ہیں اور ہمیں پتہ بھی نہیں واللہ اگر امیر المومنین عمر بن الخطاب مجھ سا شخص کو اس عظیم الشان مجمع میں مسند درس پر بیٹھا ہوا دیکھتے تو فوراً اٹھا دیتے اور فرماتے کہ تجھ سا شخص اس کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ نیز ان کا قاعدہ تھا کہ جب احادیث لکھانے بیٹھتے تو مرعوب اور خائف ہوتے ۔ اور کوئی بدلی ان پر گزرتی تو خاموش ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گذر جاتی، اور فرماتے کہ مجھے اندیشہ ہے اس میں پتھر ہوں جن کو وہ ہم پر برسائے ۔ ( احوال الصادقین : 28) __________📝📝📝__________ کتاب: ماہنامہ الابرار کراچی (جون) صفحہ نمبر: ۱۷ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

رزق کا مالک کون؟

رزق کا مالک کون؟

✍🏻ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔ مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔ ملازم کی ‏تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔ مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟" ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟ میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ‏ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس دن میری والدہ وفات پا گئیں اسی دن آپ نے تنخواہ کم کر دی۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔" 🖋️پھر بولا، "صاحب، ‏یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔"