*آخری ملاقات* جب ملا نصیر الدین کا آخری وقت آیا اور انہیں اپنے بچنے کی امید نہ رہی تو انہوں نے تمام دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے سے انکار کر دیا‘ اسی دوران ایک ایسا دوست ان سے ملنے آیا جو نماز روزے کا پابند نہیں تھا ملا نے اسے فوراً اندر بلا لیا اس نے حیرت سے پوچھا:” _ملا صاحب! آپ نے دوسرے لوگوں سے تو ملنے سے انکار کر دیا مگر مجھ سے ملنا کیوں پسند فرمایا؟“_ ملا صاحب بولے:”مجھے یقین ہے کہ میں ان سب لوگوں سے جنت میں ملاقات کروں گا لیکن آپ کے ساتھ میری یہ آخری ملاقات ہے

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )