*یقین کا سفر ۔*   حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے میں اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا۔ وہ پچیس چھبیس سال کا خوبصورت نوجوان قتل کے مقدمے میں دو دن پہلے ہی یہاں لایا گیا تھا جہاں سے چند دن بعد عدالتی کاروائی کے بعد اسے جیل منتقل کیا جانا تھا۔۔۔ اس کے خلاف کیس کافی مضبوط تھا اس لیے گمان غالب تھا کہ ایک دو پیشیوں کے بعد ہی اسے سزائے موت سنا دی جائے گی۔۔ میں ایک پولیس والا ہوں، اور پہلے دن سے ہی میرا رویہ اور لہجہ اس کے ساتھ کافی سخت رہا تھا۔۔۔لیکن اس کے لبوں پر ہمیشہ ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ ہوتی تھی اور ہمیشہ وہ مجھے بڑا سمجھتے ہوئے ادب سے اور نرم لہجے میں بات کرتا تھا۔ اور مجھ جیسا سخت انسان بھی دو دن میں ہی اس کے اچھے اخلاق کے سامنے ہار گیا تھا۔ اب وہ سلام پھیرنے  کے بعد دعا مانگ رہا تھا۔۔۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔ وہ اس طرح خشوع و خضوع سے دعا مانگ رہا تھا کہ یوں لگتا تھا جیسے وہ جس سے مانگ رہا ہے وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا ہو۔ دعا کے بعد اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس کے لبوں پر پھر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔ وہ اٹھ  کر میرے پاس آیا اور ہمیشہ کی طرح میرا حال احوال پوچھا۔ آج خلاف معمول میرا لہجہ کافی نرم تھا۔ باتوں کے دوران میں نے اس سے پوچھا کہ کیا واقعی اس نے قتل جیسا جرم کیا ہے۔۔ کیونکہ مجھے اس کی معصومیت سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ قتل جیسا جرم کر سکتا ہے۔ "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔ تو پھر میں ایسا گھناونا جرم کیسے کرسکتا ہوں؟" اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔ "تو پھر؟" میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ "جب اللہ اس دنیا میں کسی کو اختیارات دیتا ہے نا تو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ اختیارات اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔۔۔ وہ ان سب کو اپنا کمال اور حق سمجھ بیٹھتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہمارے علاقے کے ایک بااثر انسان نے قتل کردیا اور اتفاق سے میں وہاں سے چند قدم ہی دور تھا۔ اس نے الزام مجھ پر لگا دیا۔ جھوٹے گواہ بھی تیار کرلیے گئے اور میں یہاں آگیا" مجھے دکھ سا ہوا۔ "تو تمہارے گھر والون نے کچھ نہیں کیا؟" "گھر والوں نے اپنی سی کوشش کی لیکن وہی بات اس معاشرے میں لوگ بھی ڈر کے مارے اسی کا ساتھ دیتے ہیں جو طاقتور ہو" وہ پھر سے مسکرایا تھا ۔۔ مجھے اس کے سکون کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔ "تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ ہو سکتا ہے کچھ دنوں تک تمہیں موت کی سزا سنا دی جائے؟" "ان شاءاللہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں نے اس کے آگے اپنی عرضی رکھ دی ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔۔" اس نے پر یقین لہجے میں جواب دیا۔ میں نے پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ "میں اپنے اللہ کی بات کررہا ہوں۔۔۔ اسے میری بے گناہی کا علم ہے اور وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا" اس کے ہر ہر لفظ سے محبت ٹپک رہی تھی۔ "تمہیں یقین ہے کہ دعا سے کام ہوجائے گا۔؟ اگر نہ ہوا تو۔؟؟" میں نے پوچھا۔ "جب اس سے مانگا جاتا ہے نا تو پھر شک میں نہیں پڑتے کہ وہ قبول نہیں کرے گا۔۔ بس سب کچھ اس پر چھوڑ کر انتظار کرتے ہیں" اس کے لہجے میں یقین ہی یقین تھا۔۔۔ میں بس اس کے چہرے کو تکتا رہ گیا کہ اس سے پہلے اللہ پر اتنا یقین شاید ہی کسی میں دیکھا ہو۔ تین دن مزید گزر گئے۔۔ اس دوران اس کے گھر والے بھی اس سے ملنے آئے تھے۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں کا رو رو کر برا حال تھا لیکن اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ وہ مسلسل سمجھاتا  رہا کہ میں نے اللہ کے سامنے عرضی  رکھ دی ہے اسے پتا ہے میں بے گناہ ہوں دیکھ لیجئے گا وہ مجھے کچھ نہیں ہونے دے گا۔ میں نے اللہ پر اتنا یقین اس سے پہلے صرف پڑھا ہی تھا لیکن کبھی نہیں دیکھا تھا۔میرے دل میں اب اس کے لیے عقیدت کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔ شاید اللہ کی محبت ہوتی ہی ایسی ہے جو پتھر دل کو بھی پگھلا دیتی ہے۔ اور پھر جب اسے عدالت میں پیش کیا جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ہی عجیب واقعہ ہوا۔ جس شخص نے خود قتل کرکے الزام اس پر لگایا تھا وہ اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کے ساتھ گاڑی میں کہیں جارہا تھا کہ اسے ایک خوفناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں اس کی بیوی اور بچہ تو موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔۔۔ کافی گھنٹوں بعد ہوش میں آنے کے بعد اسے بیوی اور بچے کے مرنے کی خبر ملی تو اس کی حالت اور بگڑ گئی۔۔۔ اسی جان کنی کے عالم میں اسے کچھ یاد آیا۔۔۔ اس نے چیخ کر قریب موجود ڈاکٹر کو اس کی ویڈیو بنانے کا کہا۔۔۔ بار بار اصرار پر ڈاکٹر نے نرس کو ویڈیو بنانے کا اشارہ کیا تو اس نے ویڈیو میں بڑی مشکل سے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اس نوجوان کو بے گناہ قرار دے کر ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔۔۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ

غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ

جنگ اسکندریہ میں رومی ایک قلعے میں بند تھے اور مسلمانوں نے اس قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ایک روز رومی میدان میں نکلے اور سپہ سالار حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ چند سوار لے کر ان کے مقابل ہوئے ، گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ مسلمان رومیوں کو دباتے ہوئے برابر قلعے کی طرف چلے گئے اور رومیوں کے ہمراہ قلعہ کے اندر داخل ہو گئے ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہر ایک لڑائی میں سب سے آگے ہوا کرتے تھے۔ اس موقعے پر بھی وہ سب سے آگے تھے۔ رومیوں نے مسلمانوں کو دروازے میں دیکھا تو سخت گھبرائے اور چار اطراف سے سپاہیوں کے گروہ کے گروہ دروازے پر اپنے ہمراہیوں کی پشت پر آگئے اور پھر قلعے کا دروازہ ایک دم بند کر دیا۔ اس اثناء میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مسلمہ بن مخلد اور اپنے غلام دردان کے ساتھ قلعہ کے اندر ہی رہ گئے۔ رومی انہیں گرفتار کر کے اپنے اعلی افسر کے پاس لے گئے۔ رومی افسر نے ان قیدیوں کو معمولی سپاہی سمجھا۔ کیونکہ حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے کوئی جرنیلی وردی نہیں پہنی ہوئی تھی بلکہ ان کا لباس بالکل اپنے ہمراہی اور غلام کا سا سادہ تھا۔ اس لیے رومی افسر نے بڑی حقارت سے انہیں مخاطب کر کے کہا: تم بھوکے ننگے اور جاہل عربوں نے ان ممالک میں فتنہ برپا کر رکھا ہے۔“ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے نہایت بیباکانہ طور پر جواب دیا: ”ہم فتنہ پھیلانے نہیں آئے۔ بلکہ ہم ان اقوام کو پستی سے نکال کر ترقی و خوشحالی کے بام پر پہنچانے آئے ہیں۔ ہم اسلام کی برکتیں ساتھ لائے ہیں جو ہم ہر ایک قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگر تم اس لازوال دولت سے محروم رہنا چاہتے ہوتو ہم تمہیں اپنی حفاظت میں لے کر اس ملک کو دار الامان بنادیں گے۔“ رومی افسر یہ دلیرانہ جواب سن کر اپنے ماتحتوں کو رومی زبان میں کہنے لگا: یہ شخص عربی لشکر کا سردار معلوم ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے قتل کر دیں تا کہ مسلمانوں پر ہماری دہشت بیٹھ جائے۔“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا غلام دردان رومی زبان سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے آقا کو خطرے میں دیکھا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے منہ پر زور سے طمانچہ مارا اور کہا: بے ادب گستاخ کس نے تمہیں اختیار دیا ہے کہ اہل عرب کی طرف سے ایسے کلمات دو افسروں اور حاکموں کے سامنے کہو۔ چپ رہو۔ یہ تمہارا کام نہیں ۔“ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور مسلمہ بن مخلد نے کہا: بے شک ہمیں ایسی کوئی بات کہنے کا حق نہیں اور اگر آپ اپنے چند اعلی افسر اہل عرب کے افسروں کے پاس بھیجیں تو ممکن ہے کہ وہ سب مل کر ایسی شرائط باہم طے کر لیں جن پر ہم میں اور آپ میں صلح ہو جائے کیوں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ عرب سردار جنگ کی نسبت صلح کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔“ اب رومی افسر سمجھا حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کوئی بڑے آدمی نہیں ، عام سے سپاہی ہیں ورنہ انہیں طمانچہ کیوں پڑتا ۔ وہ اہل عرب کی شدت محاصرہ سے تنگ آچکا تھا۔ اس بات سے بہت خوش ہوا اور کہا: ”اچھا ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں، تم جا کر اپنے افسروں سے کہو کہ وہ صلح کرنا چاہیں تو ہم بالکل تیار ہیں ۔ مسلمہ بن مخلد نے رومی افسر کا شکریہ ادا کیا اور رومی سپاہی انہیں قلعے کے باہر چھوڑ آئے۔ ادھر اسلامی لشکر میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور مسلمہ کی گرفتاری کے باعث بڑی پریشانی تھی۔ مگر جونہی انہوں نے اپنے سردار کو صحیح و سالم آتے دیکھا تو مارے خوشی کے اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ رومیوں کے کانوں میں یہ خوشی کی آواز پڑی تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ غلام نے آقا کو جو طمانچہ مارا تھا، اس کی حکمت اب ان کی سمجھ میں آئی۔ __________📝📝📝__________ کتاب : حکمت و نصیحت کے حیرت انگیز واقعات۔ صفحہ نمبر: ۸۳-۸۴ مصنف : محمد اسحق ملتانی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ