اردو رسائل

ماہنامہ آئینہ مظاہر علوم سہارنپور (مارچ)
ماہنامہ آئینہ مظاہر علوم سہارنپور (مارچ)
ماہنامہ آئینہ مظاہر علوم سہارنپور (فروری)
ماہنامہ آئینہ مظاہر علوم سہارنپور (فروری)
ماہنامہ ندائے شاہی مرادآباد (مارچ)
ماہنامہ ندائے شاہی مرادآباد (مارچ)
ماہنامہ زاد السعید کراچی (مارچ)
ماہنامہ زاد السعید کراچی (مارچ)
ماہنامہ ارمغان ولی اللہ (مارچ)
ماہنامہ ارمغان ولی اللہ (مارچ)
ماہنامہ الامداد لاہور (فروری)
ماہنامہ الامداد لاہور (فروری)
ماہنامہ پیغام پورہ معروف (مارچ)
ماہنامہ پیغام پورہ معروف (مارچ)
ماہنامہ صدائے حق بنگلور (فروری)
ماہنامہ صدائے حق بنگلور (فروری)
ماہنامہ سلوک و احسان کراچی (فروری)
ماہنامہ سلوک و احسان کراچی (فروری)
Image 1

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

‏ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑھی والے سے پوچھا : " انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟" بوڑھے نے ادب سے جواب دیا: "بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔" عورت بولی: "میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔" بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا: "بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔" عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی، لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے یہ ایک خاموش ناانصافی تھی۔ ہم کیوں اکثر کمزور اور محتاج لوگوں کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ؟ اور کیوں سخاوت وہاں دکھاتے ہیں جہاں اس کی اصل ضرورت نہیں ہوتی ؟ میں نے کہیں ایک باپ کی کہانی پڑھی تھی جو ہمیشہ غریب ٹھیلے والوں سے چیزیں لیتے وقت قیمت سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ اس کے بچوں نے اس سے پوچھا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا: "یہ خیرات ہے، مگر عزت کے پردے میں لپٹی ہوئی۔" انگریزی ادب سے ماخوذ 🛑❤️

Whats New

Naats