محقق مسئلہ

تیجہ ، دسواں اور چالیسواں کرنا کیسا ہے؟ بعض علاقوں میں میت کے ایصال ثواب کے لیے تیجہ، ساتواں، دسواں ، چالیسواں ، ششماہی اور سالانہ کا کھانا پکا کر کھلایا جاتا ہے، شرع اسلامی میں اس کی کوئی اصل نہیں، شیخ عبد الحق محدث دہلوی اپنی کتاب ” جامع البرکات میں تحریر فرماتے ہیں کہ بہتر آنست کہ نہ خورد بہتر یہ ہے کہ اس طرح کا کھانا نہ کھائے۔اگر کسی کو ایصالِ ثواب کرنا ہی ہو تو شرعی طریقے پر کریں نہ اس میں کھانوں کی قید ہو اور نہ ہی دن مخصوص کئے جائیں ، جو کچھ حسب وسعت میسر آئے غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیں، رسم فاتحہ اور قل خوانی وغیرہ بدعت ہیں۔(اہم مسائل/ج:۲/ص:۳۹)

گھی چور ملازم

گھی چور ملازم

ایک بندہ کریانے کی ایک دکان پر ملازم تھا. وہ کسی نہ کسی بہانے دکان سے کچھ نہ کچھ چوری کرتا رہتا تھا. دکان کا مالک بڑا ہی خوش اخلاق اور امانتدار انسان تھا. وقت گزرتا گیا اور دس بارہ سال گزر گئے. اللہ نے مالک کو خوب برکت دی اور اس کی دکان شہر کی سب سے بڑی دکان بن گئی. روزانہ لاکھوں کی آمدن ہونے لگی. ایک دن اس ملازم کے گھر سے ٹفن میں کھانا آیا ہوا تھا. ملازم نے چوری سے ٹفن میں دیسی گھی ڈال دیا. اللہ کی شان کہ واپس لے جاتے ہوئے اس کے بچے سے ٹفن نیچے گر کر کھل گیا اور اس کی چوری پکڑی گئی. مالک کا بیٹا غصہ میں آ گیا اور ملازم کو برا بھلا کہنے لگا مگر مالک نے اپنے بیٹے کو سختی سے روک دیا اور کہا: " بیٹا! اسے چھوڑ دو. تمہیں آج پتہ چلا ہے کہ یہ چوری کرتا ہے مگر مجھے پچھلے بارہ سال سے معلوم ہے. اس کے باوجود میں نے اسے کبھی سمجھانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا. بس اتنا سوچو کہ ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کی روزانہ کی چوری کے باوجود بھی ہم کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں اور یہ بارہ سال چوری کرکے بھی آج تک ملازم کا ملازم ہی ہے." اسی طرح امانتدار انسان اپنی ایمانداری اور محنت کے ذریعے کہاں سے کہاں جا پہنچتا ہے مگر دھوکہ باز اور چور گندگی میں ہی پڑا رہ جاتا ہے. منقول!

Image 1

Naats